ملبے کے بعد مسئلہ کُوڑے کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جہاں لاکھوں ٹن ملبہ ہٹانا حکومت کے لیے ایک بڑا کام ہے وہاں متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ ناقابلِ استعمال امدادی اشیاء کی وجہ سے بھی پریشان ہے۔ شاہراہ قراقرم ہو یا پھر کوہالہ سے مظفرآباد یا پھر کوہالہ سے باغ تک کی سڑکیں، جگہ جگہ امدادی سامان کے بقایا جات خاصی مقدار میں بکھرے پڑے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ تاحال انتظامیہ کی ترجیحات میں انہیں ہٹانا شامل نہیں۔ مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر لیاقت حسین کو امدادی فضلہ کہ متعلق احساس تو تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت انتظامیہ امدادی کاموں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ مظفرآباد، باغ، شنکیاری، بٹل، بٹ گرام، بشام اور دیگر شہروں کے قریب پرانے امدادی کپڑے اور جوتے سڑک کنارے ہر جگہ نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ پانی کی خالی بوتلیں، پلاسٹک کی تھیلیاں، کارٹن اور دیگر امدادی اشیاء کی پیکنگ میں استعمال ہونے والی چیزیں جہاں ماحول کو آلودہ بنانے کا سبب بن رہی ہیں وہاں گندگی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے شدید زلزلے کی وجہ سے حکام کے مطابق اب تک پچاس ہزار کے قریب افراد ہلاک جبکہ اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوچکے ہیں اور تاحال سینکڑوں ایسے دیہات اور قصبوں کے ہزاروں افراد ایسے بھی ہیں جہاں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے امدادی سامان نہیں پہنچ پایا۔ صوبہ سرحد کے تین اضلاع مانسہرہ، بٹ گرام اور شانگلہ کے علاوہ کشمیر کے شدید متاثر ہونے والے اضلاع مظفرآباد، باغ اور راولا کوٹ کے مختلف شہروں اور دیہات میں ہر طرف ملبہ ہی ملبہ بکھرا پڑا ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق حکومت آئندہ دو برسوں میں بھی یہ ملبہ نہیں ہٹا سکتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کمیٹی‘، کے سربراہ جنرل زبیر گزشتہ تین روز سے کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ملبہ ہٹانا حکومت کے لیے مشکل کام ہے اور اس کام پر توانائی اور رقم خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ نئے شہر اور دیہات قائم کیے جائیں۔ زلزلے سے متاثرہ شہروں میں ایک بات جو یکساں نظر آئی وہ یہ کہ ان شہروں کی بیشتر سرکاری عمارتیں جن میں تعلیمی ادارے اور ہسپتال شامل ہیں ملیا میٹ ہوگئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان عمارتوں کے ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے اداروں کی عمارتوں کے تعمیری کام پر زیادہ نظر رکھی جائے تاکہ ناقص تعمیرات نہ ہوسکیں۔ مظفرآباد کے کئی شہریوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ شہر میں ’نجی سکول مافیا‘ نے کچے اور کمزور مکانوں میں سکول قائم کر رکھے تھے جہاں بیسیوں معصوم بچے دب کر رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی تو نئی نسل تباہ ہوگئی لیکن اب پاکستان کے شہروں کی گلی محلوں میں جو سکول قائم ہیں حکومت ان کی طرف توجہ دے۔ زلزلے کو آئے ہوئے چودہ روز ہو چلے ہیں لیکن اب بھی امدادی اشیاء کی تقسیم ہی انتظامیہ کی پہلی ترجیح ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||