آئندہ دو ہفتے بہت اہم ہیں: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اگلے دو تین ہفتوں میں مدد نہ پہنچی تو زلزلہ زدگان کی مصیبتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بین الاقوامی سطح پر موصول ہونے والی امداد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں پر تنقید کریں۔ صدر مشرف نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں پر تنقید کرنا ’بیڈ ٹیسٹ‘ یا غیر مناسب بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو ملنے والی امداد کا سونامی سے متاثرہ ملکوں کو دی جانے والی امداد سے بھی موازنہ نہیں کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کی امداد میں کمبل اور خیمے بہت ضروری ہیں اور خاص طور پر خیمے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں سردی شروع ہو گئی ہے لیکن دو سے تین ہفتوں میں یہ شدید ہو جائےگی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کچھ علاقوں تک اب بھی امداد نہیں پہنچی ہے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ایک عالمی کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں عالمی ممالک اور امدادی تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مزید امدادی فنڈ جمع کیے جا سکیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام علاقوں میں امدادی ٹیمیں سرد موسم کے آغاز سے قبل پہنچ جائیں گی۔ لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک فضا قائم ہے جس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے اور مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کی جانی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||