پار سے مدد جلد پہنچ سکتی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ حکام بھر پور کوشش کر رہے ہیں کہ ان دور دراز متاثرہ علاقوں میں پہنچ پائیں جہاں وہ اب تک نہیں پہنچ سکے ہیں لیکن ابھی بھی لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پاکستان فوج کی طرف سے امدادی سامان تک نہیں پہنچا۔ ان میں سے ایک علاقہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ میں دمیر نمبل بالا کا ہے۔ یہ علاقہ مظفر آباد سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور بہت بلندی پر واقع ہے۔ بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام نے نمبل بالا میں زلزلے سے اس تباہ شدہ گاؤں کے ایک رہائشی چوہدری محمد اصغر سے موبائل فون پر رابطہ کر کے وہاں کے حالات کے متعلق جاننا چاہا۔ محمد اصغر نے بتایا کہ یہاں بھی ہر طرف موت اور بے چارگی ہے۔ تقریباً نوے فیصد دیہات تباہ ہو چکے ہیں اور ایک ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے پانچ بچے مکان کی چھت کے نیچے آ گئے تھے لیکن خدا کے فضل سے انہیں وہاں سے نکال لیا گیا۔ ’دو کی حالت کافی خراب ہے اور باقی تین بہتر ہیں‘۔ محمد اصغر نے بتایا کہ یہاں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔ نہ خوراک اور نہ ہی خیمے۔ سردی بڑھتی جا رہی ہے اور زخمیوں کی حالت اور بگڑتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کافی لوگ معذور ہو چکے ہیں اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت کافی خراب ہے۔ ’مشکل ہے کہ یہ لوگ زندہ بچیں‘۔ انہوں نے کہا ویسے تو پاکستان فوج بھی وہاں امدادی سامان پھینک سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب یعنی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جانب سے ان کے گاؤں تک امداد جلد پہنچ سکتی ہے کیونکہ یہ علاقہ لائن آف کنٹرول سے صرف سات کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھارت کو لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز دی تھی تاکہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد ہو سکے۔ بھارت کی حکوت نے اس تجویز کا خیر مقدم تو کیا ہے مگر وہ اس تجویز کی تفصیلات جاننا چاہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||