’تجویز ابھی بھارت بھیجی ہی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کی طرف سے کشمیریوں کے لیے لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز تحریری طور پر بھارت کو پیش نہیں کی گئی اور پاکستانی وزارت خارجہ اس ’خاکے‘ کی تفصیلات طے کر رہی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ بھارت کی طرف سے صدر مشرف کی اس تجویز کے خیر مقدم کیے جانے کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ میں اس کی تفیصلات طے کی جارہی ہیں اور پر بحث و تمہید ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ایک تجویز کا خاکہ پیش کیا تھا جس کا مقصد مصبیت کی اس گھڑی میں کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھنا تھا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان دفتتر خارجہ اس تجویز کی تفصیلات جلد سے جلد طے کرنے کے بعد بھارت کی حکومت کو پیش کرئے گا۔ تاہم انہوں وقت کا تعین نہیں کیا کہ دفترِ خارجہ کو اس تجویز کے مندرجات کو طے کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا اس وقت کشمیری ایک بہت بڑی مصیبت سے گزر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ جلد از جلد اس رنج و علم کے دور میں انہیں کوئی راحت پہنچائی جائے۔ بھارت کے رد عمل کے بارے انہوں نے کہا کہ بھارت کی دفتر خارجہ کی طرف سے بہت مثبت رد عمل سامنے آیا ہے جسے گزشتہ روز پھر دہہرایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس دوران بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا تھا جس کو بھارت ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر شائع کیا گیا تھا۔ اس بیان میں انہوں نے لائن آف کنٹرول پر نرمی کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی۔ تسنیم اسلم نے پاکستان کے چیف ریلیف کمشنر کے بیان کو دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاید بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف کے بیان کا ہی ذکر کیا تھا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ صدر مشرف نے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیری عوام کو موبائل فون کی سہولت مہیا کرنے کی بات بھی تھی۔ انہوں نے کہا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نجی موبائل فون کمپنیوں کو پہلے ہی اپنی سروس مہیا کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||