’گھر فون کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس وقت زلزلہ آیا اس وقت میں انٹرنیٹ پر کراچی میں اپنی کزن کے ساتھ چیٹنگ کر رہا تھا۔ مجھے پاکستان سے اپنے ایک دوست کا فون آیا کہ پاکستان میں بہت برا زلزلہ آیا ہے جس سے بالاکوٹ اور اس کے گرد ونواح کا سارا علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہمارا گاؤں چٹا بٹہ ہے جو کہ بالاکوٹ کے قریب ہے اس لیے مجھے بھی اپنے گھر والوں فکر ہونےلگی۔
میں نے موبائل فون اپنی جیب سے نکالا اور گھر کا نمبر ملانے لگا۔ گھر کیا اس علاقے کا کوئی بھی نمبر نہیں لگ رہا تھا۔ مجھے اور زیادہ پریشانی ہونے لگی۔ میں نے کراچی میں اپنے کزن کو کہا کہ تم گاؤں کا نمبر ملانے سے کوشش کرو لیکن وہاں سے بھی کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرتا رہا کہ یا اللہ جو کچھ میں نے سنا ہے وہ جھوٹ ہو۔ دو تین گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد گھر کا نمبر مل گیا لیکن جب گھر والوں سے بات ہوئی تو ایسا لگا جیسے وہ کسی جنگ زدہ علاقے میں ہوں اور دشمن ان پر مسلسل بم برسا رہا ہو۔ خوف سے ان کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ وہ صرف اتنا کہہ پائے کہ ہمارے لیے دعا کرنا، پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کب گھر کی چھت گر جائے کوئی پتا نہیں۔ قصے کہانیوں میں تو ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ کسی علاقے میں قدرت کی طرف سے عذاب آیا اور وہ قوم تباہ و برباد ہوگئی لیکن کبھی بھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ ہمارا علاقہ بھی ان کہانیوں کا حصہ بن جائے گا۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمارے عزیز و اقارب، ہمارے دوست احباب بھی ان کہانیوں کا حصہ بن جائیں گے۔ گھر والوں نے بتایا کہ وہ سب لوگ گھر سے باہر ایک کھیت میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ٹیلیفون کی تار کھینچ کر وہاں تک لے آئے ہیں۔ گھر والوں نے یہ بھی بتایا کہ بالاکوٹ اور اس کے آس پاس کے گاؤں اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد میں نے یہاں ریاض میں ان دوستوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا جن کے گاؤں گڑھی حبیب اللہ کے علاقے میں ہیں۔ گُل میرہ نامی گاؤں کے دوستوں سے پتا چلا کہ ان کے گاؤں میں کوئی گھر سلامت نہیں رہا اور پتا نہیں کون زندہ ہے کون مر گیا ہے؟ ایک دوست کا پتا چلا کہ اس کی بیوی اور دو بچیاں جان بحق ہو چکے ہیں۔ بچیوں کا سن کر ہماری جو حالت ہوئی وہ ہم جانتے ہیں یا ہمارا خدا۔ جیسے وہاں پر موجود سب لوگوں کو سانپ سونگھ گیا ہو۔کسی کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جو اس دوست کو تسلی دے سکتے۔ پھر جب باقی دوستوں سے رابطہ ہوا تو پتا چلا کہ کسی کے دس تو کسی کے بیس رشتہ دار ہلاک ہو چکے ہیں۔ کسی کا گھر تباہ ہوگیا تو کسی کے گھر والے نہیں رہے۔ اس کے بعد ائیر پورٹ پر جو منظر دیکھنے کو ملے انہوں نے تو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ایک نہیں ، دو نہیں، کتنے ہی ایسے افراد ملے جن کا کہنا تھا کہ ان کے خاندانوں میں ان کے علاوہ کوئی نہیں بچا۔اس زلزلے نے ہم سے ہمارے سارے پیارے چھین لیے۔ اب تو گھر فون کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ نجانے کیا خبر سننے کو ملے۔ بچوں سے بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں ’ابو زمین ہل رہی ہے اور ہمیں بہت ڈر لگتا ہے، آپ جلدی گھر آجائیں۔‘ زلزلہ آیا اور چلا گیا، سب کچھ تباہ و برباد کر کے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو زندہ بچ گئے ہیں ان کے دل سے اس قیامت جیسی تباہی کا خوف کیسے نکالا جائے؟ ان کو سردی سے کیسے بچایا جائے؟ ان کو بیماریوں سے محفوظ کیسے رکھا جائے؟ ان کا خوف کیسے دور ہو سکتا ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||