BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہر طرف دہشت کا عالم تھا‘

متاثرہ علاقوں میں امداد کی اشد ضرورت ہے۔

(سید عدنان علی نقوی نے کئی دن بالاکوٹ میں متاثرین کی مدد کرتے ہوئے گزارے۔ وہ اب کراچی میں ہیں، مگر آج ہی واپس متاثرہ علاقوں کے لیے دوبارہ روانہ ہو رہے ہیں۔)

ہم لوگ نو اکتوبر کی رات کو بالاکوٹ پہنچے۔ وہاں ایک قیامت کا عالم تھا۔ یقین کریں کہ ہم لوگ اپنی پریشانی اور دکھ کو اس طرح بھول گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہم تو خود اپنے لاپتہ بھائی کی تلاش میں وہاں تھے، مگر وہاں لوگوں کو دیکھ کر سب کچھ بھول گئے۔ پاک آرمی کے کچھ فوجی وہاں کام کر رہے تھے مگر سڑکوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ کچھ کہنا مشکل تھا کہ کتنی دیر لگے گی امداد وہاں پہنچنے تک۔ ہر طرف تباہی اور دہشت کا عالم تھا۔ لوگ کچھ کرنا چاہتے تھے مگر کوئی یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کام کہاں سے شروع کریں، کیونکہ ہر طرف زخمی ہی زخمی اور موت ہی موت تھی۔

اسی دوران بار بار آنے والے جھٹکوں نے بھی ایک دہشت بنائی ہوئی تھی۔ ڈر کے مارے کوئی بھی شخص ملبے کے پاس نہیں جانا چاہ رہا تھا۔ ہم نے وہاں کے کچھ مقامی لوگوں کو ساتھ لیا اور شاہین پبلک سکول کی طرف روانہ ہوئے، کیونکہ ہر کوئی صرف بچوں کے لیے ہی پریشان ہو رہا تھا۔

آپ لوگ یقین ہی نہیں کریں گے کہ وہاں سے بچوں کے چیخنے، چلانے کی ایسی آوازیں آ رہی تھیں کہ میں ان کو ابھی تک فراموش نہیں کر پایا ہوں اور شاید ساری زندگی نہیں کر پاونگا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنا برا اور خوف ناک وقت دیکھوں گا۔ ہم سب لوگ تعداد میں تقریباً پچاس تھے، مگر چاہنے کے باوجود ان بچوں کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے تھے۔ ملبہ اتنا تھا کہ اگر اٹھایا جاتا اور اگر کوئی غلطی ہوتی تو مزید اموات کا خطرہ تھا۔

وہاں میں نے ان ماں باپ کو دیکھا جو زخموں سے چور چور تھے مگر اپنے بچوں کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار تھے۔ لیکن کوئی کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ آوازوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سو بچے زندہ تھے، مگر۔۔۔جب تک مدد پہنچی، تو وہ آوازیں لگ بھگ ختم ہو گئیں اور ہم کچھ نہیں کر پائے۔ شاہین پبلک سکول کا ملبہ آج بھی ویسا ہی ہے۔ بس تھوڑا بہت ہٹایا گیا ہے، اور زندگی کا امکان تو اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر بھی ہم سے جو کچھ بھی بن پڑا، ہم نے کیا۔

زلزلے کے بعد رہی سہی کسر جھٹکوں اور بارش نے پوری کردی۔ دس اکتوبر کی صبح ہمیں وہ گاڑی ملی، جس میں میرا بھائی اور اس کے چار دوست تھے۔ مگر دو لاشوں کے علاوہ مجھے کچھ نہیں ملا۔ ہم امید کر رہےتھے کہ شاید کوئی موجزہ ہوا ہو اور میرا بھائی بچ گیا ہو، مگر ایسا نہیں ہوا۔ پیر کی شام ہی کو اس کی لاش نیچے دریا کے کنارے مل گئی۔ اس کی لاش کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے خود کو زندہ رکھنے کی بہت کوشش کی ہوگی، مگر خدا کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ اس کی لاش سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچا دی گئی۔

میرا من بالاکوٹ سے واپس آنے کو نہیں مان رہا تھا۔ ان لوگوں کی حالت دیکھ کر بس یہی دل میں آ رہا تھا کہ جو بھی ہم ان کے لیے کر سکتے ہیں کرنا ہوگا۔ ہم نے آرمی اور مقامی لوگوں کی مدد سے زیادہ زخمی لوگوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذرحعے اسلام آباد بھیجنا شروع کر دیا۔ مگر زخمی اتنے زیادہ ہیں کہ لگتا ہے کہ شاید اس کام میں دیر ہوگی اور ہمیں ایک نئی قیامت کا سامنا کرنا ہوگا۔

جی ہاں یہ کل رات تک کی رپورٹ ہے کہ بالاکوٹ سے ناران وادی اور کشمیر میں نیلم وادی اور جہلم وادی، شامگرام، بٹگرام، باغ میں ابھی تک بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔ اور شاید اب تو ویسے بھی بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں صرف حکومت سے ہی نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ خدارا کچھ کریں نہیں تو ایسی قیامت آئے گی جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ زخمی اتنی تعداد میں ہیں کہ ان کو صرف فرسٹ ایڈ ہی نہیں بلکہ مکمل علاج کی ضرورت ہے۔



پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد