BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 October, 2005, 08:30 GMT 13:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم سےایمبولنس ڈرائیورنےپیسےمانگے‘

ایمبولنس
امدادی کام کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ کوتاہی کا امکان ہو سکتا ہے:حکام
ایبٹ آباد، مانسہرہ اور زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں میں ایمبولنسوں کے سائرن کی آواز مسلسل سنائی دیتی ہے۔ یہ ایمبولنسیں دوردراز متاثرہ علاقوں سے مریضوں کو لانے اور لے جانے میں مصروف ہیں۔

اس وقت پورے صوبہ سرحد سے ہنگامی بنیادوں پر فلاحی اداروں کے علاوہ 65 کے قریب ایمبولنس مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔

ہسپتالوں میں داخل زلزلے سے متاثرہ مریضوں کی شکایات میں ایمبولنسوں سے متعلقہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔

بالا کوٹ سے آئے ہوئے عبدالخالق کو گلہ ہے کہ وہ اب بھی سرکاری ایمبولنس کے ڈرائیور کے مقروض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ راستے میں اس نے گاڑی روکی اور کہا پیسے دو۔ دو مریض ہیں تو پانچ پانچ سو روپے دو، ایک ہزار کا پٹرول ڈلے گا۔ ہم نے دے دیے۔ تین سو دوسرے آدمی نے دیے دو سو میں نے دیے اور کہا کہ بقایا ہسپتال میں دیں گے۔ سب کچھ تو مٹی کے نیچے ہے، نکال لیا تو دے دیں گے نہیں تو کہاں سے دیں‘۔

ڈاکٹر نے لکھ کر دیا تھا کہ نوشہرہ جانے کا مگر ایمبولنس والے نے راستے میں اتار دیا اور کہا کہ آگے راستہ بند ہے ، بارش ہو رہی ہے اور ہم آگے نہیں جا سکتے۔ ایمبولنس والے نے کہا کہ یہ بھی ہماری مہربانی سمجھیں کہ ہم آپ کو یہاں تک لے آئے ہیں
ذوالفقار

ایمبولنس ڈرائیوروں سے جب ان کا مؤقف دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اعلٰی حکام نے مریضوں سے پیسے لینے کو کہا تھا۔ ایک ایمبولنس ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے پاس جو فنڈ تھا وہ ختم ہو گیا تھا اور ایک آرڈر پاس ہو گیا تھا کہ جو مریضوں کو لے کر جایا جائے ان سے ڈیزل کے پیسے لیں۔ ہمیں بھی احساس تھا، مسئلہ ہو گیا تھا لیکن کیا کریں حکومت کی طرف سے آرڈر ہو گیا تھا‘۔

سرکاری ایمبولنس سے شکایات اور ان پر لگنے والے الزامات صرف پیسوں تک محدود نہیں بلکہ چند زلزلہ زدگان کا کہنا ہے سرکاری ایمبولنسوں کے ڈرائیور انہیں ڈاکٹروں کے ہدایت کردہ ہسپتالوں کی بجائے کہیں اور اتار دیتے ہیں جس سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

بالاکوٹ سے لائے گئے ایک چھ سالہ بچے کے ساتھ آئے ہوئے ذوالفقار نے بتایا کہ’ ہم تین دن کے بعد اس بچے کو بالاکوٹ لے کر پہنچے۔ بچے کو اٹھائے تین گھنٹے ہم خوار ہوتے رہے۔ ڈاکٹر نے لکھ کر دیا تھا کہ نوشہرہ جانے کا مگر ایمبولنس والے نے راستے میں اتار دیا اور کہا کہ آگے راستہ بند ہے ، بارش ہو رہی ہے اور ہم آگے نہیں جا سکتے۔ ایمبولنس والے نے کہا کہ یہ بھی ہماری مہربانی سمجھیں کہ ہم آپ کو یہاں تک لے آئے ہیں‘۔

 راستے میں اس نے گاڑی روکی اور کہا پیسے دو۔ دو مریض ہیں تو پانچ پانچ سو روپے دو، ایک ہزار کا پٹرول ڈلے گا۔ ہم نے دے دیے۔ تین سو دوسرے آدمی نے دیے دو سو میں نے دیے اور کہا کہ بقایا ہسپتال میں دیں گے۔ سب کچھ تو مٹی کے نیچے ہے، نکال لیا تو دے دیں گے نہیں تو کہاں سے دیں
عبدالخالق

سرکاری ایمبولنسیں اگرچہ دن رات مریضوں کو لانے اور لے جانے میں مصروف ہیں مگر صوبہ سرحد کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ایمبولنس ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کی گاڑیاں بہت خستہ حال ہیں اور کسی بھی وقت راستے میں خراب ہو سکتی ہیں۔ ایک ایسے ہی ڈرائیور کا کہنا تھا کہ ’ ایمبولنس گزارے والی چیز تو نہیں ہے۔ میری ایمبولنس کے بریک،ٹائر، سائرن کی حالت بہت ہی خراب ہے۔ ہم نے ذمہ دار لوگوں کو کئی مرتبہ درخواست دی مگر حکام کہتے ہیں کہ بس کام چلاؤ اور ٹائم پاس کرو۔ ایمبولنس تو ایمرجنسی کی چیز ہے اس کی تو بریک اور سائرن ٹھیک ہونے چاہییں۔ جب ہمارے پاس صحیح گاڑی ہی نہیں ہے تو ہم مریض کو کیسے ٹائم پر پہنچا سکتے ہیں‘۔

مریضوں کی شکایات اور ایمبولنس ڈرائیوروں کے ایک حد تک بدنظمی اور بدانتظامی کے اعتراف کے باوجود صوبہ سرحد کے وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ’ اس وقت ایمبولنسوں کا اور مریضوں کی شفٹنگ کا کوئی مسئلہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ اس قسم کی کوئی رپورٹ نہیں ہے اور نہ کوئی پیسے لے سکتا ہے۔ جب ایسی شکایات آتی ہیں تو ہم خود جا کر چیک کرتے ہیں‘۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتوں سے لگاتار ہونے والے امدادی کام کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ کوتاہی کا امکان ہو سکتا ہے۔

66زندگی بچانے کا سفر
متاثرین کو زندگی لوٹانے والے ٹرک ڈرائیور
66دھیرے دھیرے
مظفر آباد میں زندگی کی رمق: ذوالفقار علی
66نصف ماہ گزر گیا
زلزلے کے پندرہ دن بعد کیا ہو رہا ہے: تصاویر
66فوجی پرچیاں
امداد کی تقسیم پر لوگ کیا کہتے ہیں
66خیمے کہاں گئے؟
خیمے تقسیم کی بجائے ذخیرہ کیے جا رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد