BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوجی پرچیاں بانٹ رہے ہیں‘
 امداد کی ترسیل اور تقسیم
امداد کی ترسیل اور تقسیم کا عمل آہستہ آہستہ جاری ہے
زلزلے کے پندرہ دن بعد پاکستان اور کشمیر کے متاثرہ علاقوں میں امداد کی ترسیل اور انتطام پر بی بی سی نے کچھ متاثرین اور تقسیم کے ذمہ دار افراد سے بات چیت کی جس کا متن نیچے دیا گیا ہے۔

مہربان عباسی

میرا نام مہربان عباسی ہے اور میرا تعلق کھتیلی سے ہے۔ میرے گاؤں میں 150 مکان تھے اور آبادی قریباً 2000 تھی جو سب متاثر ہوئی ہے۔

زلزلے سے 58 لوگ مرے ہیں اور 65 افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو تو ہم راولپنڈی لے آئے ہیں۔ ہمیں امداد کا معمولی سامان ملا ہے اور خیمہ نہیں ملا ہے۔ ٹینٹ مل جائے تو سب صحیح ہو جائے گا۔ ہم کھلے آسمان کے نیچے سو رہے ہیں اور بڑی مشکل سے گزارہ ہو رہا ہے۔ مظفرآباد میں تو کوئی سرکاری بندہ نہیں ہے۔ میں حبیب بنک میں گارڈ ہوں۔ بنک والوں نے تو اپنے ملازموں سے تعاون کیا ہے مگر حکومت کا کوئی بندہ نہیں ہے۔

باعث خان

میرا نام باعث خان ہے اور میں تھا کوٹ سے پانچ کلومیٹر دور تحصیل الائی کے ایک گاؤں کا رہائشی ہوں۔ میرے علاقے میں گزشتہ دو دن سے امداد آنا شروع ہوگئی ہے اور علاقے کے لوگوں کو راشن اور ٹینٹ ملنے شروع ہوئے ہیں لیکن یہ عمل آہستہ آہستہ جاری ہے۔ آنے والی امداد میں آٹا، چینی، گھی، اور بسکٹ شامل ہیں اور اس کے علاوہ منرل واٹر اور جوس کی بوتلیں بھی دی گئی ہیں۔

میرےگاؤں کے لوگوں کو امدادی تنظیموں نے 130 ٹینٹ فراہم کیےہیں مگر فوج کی طرف سے ابھی تک کوئی ٹینٹ نہیں ملا۔ فوجی لوگوں میں پرچیاں تقسیم کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خیمے اٹھائیس اکتوبر کو ملیں گے۔

علاقے کے لیے ایک سو تیس خیمے ناکافی ہیں اور اب بھی بہت سے لوگوں کے پاس سر چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ حالات میں بہتری آ رہی ہے تاہم موسم کی سختی کی وجہ سے عورتوں اور بچوں میں نمونیہ اور اسہال جیسی بیماریاں پھیلنی شروع ہو گئی ہیں اور ہمارے پاس ادویات بھی نہیں ہیں۔

لائس نائیک محمد سلیم

میرا نام لائس نائیک محمد سلیم ہے اور ہم یہاں راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ ایک میجر صاحب ہیں جو نیچے گاؤں میں گھر گھر جا کر نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مستحق لوگوں میں پرچیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ لوگ پرچیاں لے کر ہماے پاس آتے ہیں اور ہم وہ پرچی دیکھ کر راشن دیتے ہیں۔

ہماری تین گاڑیاں روزانہ نکلتی ہیں اور علاقے کے منتظمین کے ہمراہ ہمارا ایک آدمی ہوتا ہے جو تقسیم کے کام کی نگرانی کر تا ہے۔ تقسیم کیے جانےوالے سامان میں چینی، دال، گھی، آٹا، سوکھا راشن، کمبل اور ٹینٹ شامل ہیں اور متاثرہ فوجیوں کو بھی عام افراد کے ہمراہ ہی راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد