BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 October, 2005, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: ہلاک و زخمیوں کومعاوضے

عید سے قبل متاثرہ افراد کو مالی امداد دی جائے گی

پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نے سنیچر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53381 (تریپن ہزار تین سو اکاسی) جبکہ زخمیوں کی پچھتر ہزار(75000) سے زیادہ ہوچکی ہے۔

ریلیف کمشنر کے مطابق اب تک دو سو پروازوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا چکا ہے اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔

ادھر وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے کابنیہ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عید الفطر سادگی سے منائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے کشمیر اور صوبہ سرحد کی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ ہر مرنے والوں کے ورثا کو ایک لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی کو پچاس ہزار روپے کا فوری مالی معاوضہ ادا کیا جائے تاکہ لوگ اپنی ضروریات زندگی کی اشیاء لے سکیں۔ ان کے مطابق عید سے قبل متاثرہ افراد کو مالی امداد دی جائے گی۔

شیخ رشید احمد نے بتایا کہ چکوال اور فتح جھنگ میں زلزلہ زدگاں کے لیے دو خیمہ بستیاں قائم کی جائیں گی جبکہ اسلام آباد میں ’ٹرانزٹ کیمپ‘ قائم کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق جو متاثرہ افراد پہلے اسلام آباد آئیں گے انہیں کچھ دن وہاں قیام کے بعد چکوال اور فتح جھنگ منتقل کردیا جائے گا۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ تین لاکھ تمبو مقامی طور پر تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور وزارت ٹیکسٹائیل کی نگرانی میں روزانہ سات ہزار خیمے تیار کرکے متاثرہ افراد تک پہنچائے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی سامان کا سیلاب آچکا ہے اور خوراک اور ادویات بہت آچکی ہیں لیکن خیمے، کمبل اور رضائیوں وغیرہ کی اب بھی انہیں ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، مقامی اداروں اور افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک اور ادویات کے علاوہ ضروری اشیاء بھیجیں۔

ان کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں انیس ہزار زخمی آئے ہیں جس میں سے تیرہ ہزار زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے جبکہ چھ ہزار اب بھی داخل ہیں۔

خیمے
متاثرہ افراد کو خیموں اور کمبلوں یا لحافوں کی شدید ضرورت ہے

بھارت کے بارے میں ایک سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ انہوں نے تھانوں میں فون لگائے ہیں جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں موبائئل فون کمپنیوں کو مکمل اجازت دی گئی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ نیلم اور جہلم ویلی کے علاوہ کاغان وادی کے تیس فیصد کے قریب ایسے علاقے ہیں جہاں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے نہیں پہنچا جاسکا۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اشیاء گرائی گئی ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ سڑکیں کھولنے کے لیے جدید اور بڑی مشینری امریکہ سے کراچی پہنچ چکی ہے جو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ سڑکوں تک پہنچائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کاغان اور دیگر علاقوں میں چند روز قبل آنے والے زلزلے کےجھٹکوں کی وجہ سے مزید تودے گرے ہیں جن کے نتیجے میں کھولی جانے والی سڑکیں پھر بند ہو گئی ہیں، وہاں کام کرنے والے لوگ زخمی بھی ہوئے اور کچھ مشینیں بھی تودوں کے نیچے دب گئی ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے نمائندے نے میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں کہا ہے زلزلے کی تباہ کاریوں کی مکمل تصویر تاحال سامنے نہیں آئی اور ہر روز اس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

متاثر
جسے جو ذریعے ملا اس نے اس کے ذریعے قریبی مقام سے امداد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے

ان کے مطابق تیس ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل اونچے پہاڑی علاقوں میں آنے والی بڑی تباہی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی اپیل پر اب تک نو کروڑ ڈالر کی امداد انہیں ملی ہے جو کہ مطلوبہ مالی امداد سے کہیں کم ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد