مظفر آباد میں زندگی کی رمق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلے سے تباہ حال دارالحکومت مظفر آباد میں زندگی معمول پر آنے کے لیے تو کئی سال درکار ہیں لیکن اب دھیرے دھرے زندگی کی رمق لوٹ رہی ہے۔ مظفر آباد میں کچھ روز پہلے تک معلوم ہوتا تھا کہ وہاں انسان بستے ہی نہیں ہیں۔ شہر کی اکثریتی آبادی نقل مکانی کر گئی ہے۔ وہاں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ لوگوں کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں اور ان کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ لیکن اب کہا جا سکتا ہے کہ شہر میں کسی حد تک ٹیلی فون اور انٹر نیٹ کی سہولت بحال ہو گئی ہے اور کہیں کہیں بجلی بھی پہنچ چکی ہے۔ کچھ دکانیں کھل گئی ہیں جہاں لوگ خرید فروخت کرتے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے چلنے کے ساتھ ساتھ اخبارات بھی مظفر آباد پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں تک امدادی کارروائیوں کا سوال ہے تو یہ درست ہے کہ پاکستان کے لوگوں نے بہت مدد کی ہے اور بڑی مقدار میں ملک بھر سے امدادی سامان مظفرآباد پہنچا ہے۔ لیکن دور دراز کے دیہات سے اب بھی شکایات پہنچ رہی ہیں کہ وہاں پر لوگوں کو امداد نہیں ملی۔ حکومت کے دعووں کے بر عکس دو دو روز کا سفر کر کے مظفر آباد پہنچنے والےمختلف لوگوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں خوراک نہیں اور انہیں امداد نہیں ملی۔ ایک خاندان نے بتایا کہ انہوں نے اپنا گھر اسی وجہ سے چھوڑا ہے کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی درست ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دیہاتی علاقوں سے زخمیوں کو لایا جا رہا ہے اور وہاں امدادی سامان بھی پھینکا جا رہا ہے۔ لیکن اس امدادی سامان کے بارے میں بتایا کہ یہ نیچے پہنچ کر ضائع بھی ہوجاتا ہے اور ہر علاقے میں نہیں پہنچ رہا۔ دیہاتی علاقوں میں بڑی تعداد میں زخمی اب بھی موجود ہیں اور وہاں لوگ زخموں کی وجہ سے ہلاک بھی ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور خواتین اور بچے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||