فوج ملوث نہ ہو: این جی اوز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں غیرسرکاری تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کی ذمہ داری فوج کے حوالے نہ کرے۔ غیر سرکاری تنظیموں کی جائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ فوج زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو بروقت بچانے میں ناکام رہی ہے جبکہ تعمیر نو کا اسے کوئی تجربہ نہیں۔ صوبہ سرحد کی غیرسرکاری تنظیموں پر مشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹی نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ مطالبہ سنیچر کے روز پشاور میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران کیا۔ اس کمیٹی کے ڈاکٹر سعد عالم نے کہا کہ جب لاشیں نکالنے اور امداد کی تقسیم کے مراحل ختم نہیں ہوئے تو ایسے موقعہ پر صدر پرویز مشرف کی جانب سے تعمیر نو کا قصہ چھیڑنا قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل جب ریسکو میں ناکام ہوا تو تعمیر نو اس کا کام ہی نہیں ہے۔‘ صدر پرویز مشرف کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہ امدادی رقم سے وہ روزگار پیدا کریں گے ان کا کہنا تھا کہ پہلے زخمیوں اور مردہ اشخاص کا بندوبست تو کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر نو بھی مقامی افراد اور ان کے نمائندوں کے ذریعے کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ’ہمارا مشورہ ہے کہ فوج تعمیر نو سے دور رہے۔ اس پر مالی بدعنوانی کے الزامات تباہ کن ہونگے۔‘ غیرسرکاری تنظیموں کا موقف تھا کہ اس سانحے نے ان پر واضع کر دیا ہے کہ انہیں ایسے المیوں کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔ ان کا موقف تھا کہ سریا کاٹنے کے اوزار اور تربیت یافتہ کتوں جیسی معمولی چیزوں کی کمی کی وجہ سے جانیں نہیں بچائی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس المیہ نے واضع کر دیا ہے کہ انہیں ایف سولہ کی نہیں ہیلی کاپٹروں کی اور ایٹم بم کی نہیں ایمبولینسوں کی ضرورت ہے۔ خیموں کی کمی کے مسلہ پر ڈاکٹر سید عالم کا کہنا تھا کہ امداد کے لئے جمع رقم سے یہ باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اربوں روپے کی جمع کی گئی امداد آخر کس مقصد کی جب اس سے جانیں ہی نہ بچائیں جا سکیں۔ جاپان یا کسی ملک کو اگر اربوں ڈالر کا خمیوں کا ٹھیکہ دیا جائے تو وہ دنوں میں اسے پورا کر دیں گے۔ ’لیکن ہمارے حکمراں تو خیموں کی بھی بھیک بانگ رہے ہیں۔‘ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے تبینہ کی کہ اب حکومت کو دوسرے مرحلے کی اموات جوکہ سردی سے ہوسکتی ہیں روکنے پر توجہ دینی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||