BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 September, 2005, 09:31 GMT 14:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج بیرکوں میں واپس جائے‘

فوج
اپوزیشن جماعتوں نے فوج کی واپسی کیلیے قراداد پیش کرنے کا مطالبہ کیا
پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کے روز یوم دفاع کے موقع پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے مضبوط دفاع کا تقاضا ہے کہ فوج واپس بیرکوں میں جائے اور سیاست سے فوجی مداخلت ختم کی جائے۔

حزب اختلاف کے رکن لیاقت بلوچ نے اس ضمن میں ایوان کے اندر قرار داد پیش کرنا چاہی جس کی حکومت نے مخالف کی اور دونوں جانب کے اراکین میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔

جب نکتہ اعتراض پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ یوم دفاع کے موقع پر فوج کو بیرکوں میں بھیجنے اور سیاست میں اس کی مداخلت ختم کرنے کے بارے میں قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے قراردار پیش کرنے کی مخالفت کردی۔

پارلیمانی وزیر نے کہا کہ مجلس عمل والوں نے جو آئینی ترامیم منظور کرائیں تھیں ان میں شامل تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوجی وردی میں صدر رہ سکتے ہیں اور آج وہ اس کی مخالفت کس طرح کرسکتے ہیں؟

حزب اختلاف کے اراکین نے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی پر’لوٹا لوٹا‘ کی آوازیں بھی کسیں اور کہا کہ انہوں نے آئینی ترامیم اس لیے منظور کرائیں تھیں تاکہ صدر مشرف فوجی عہدہ چھوڑ دیں لیکن ان کے بقول صدر نے ان سے وعدہ خلافی کی۔

اس موقع پر بندرگاہوں اور جہاز رانی کے وزیر بابر غوری نے مذہبی جماعتوں پر سخت تنقید کی۔ جس پر فریقین نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے الزامات بھی لگائے۔

محمود خان اچکزئی، حافظ حسین احمد اور دیگر نے فوج کو بیرکوں میں بھیجنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یوم دفاع کے موقع پر پارلیمینٹ متفقہ طور پر سیاست سے فوجی مداخلت کے خاتمے کی قرارداد منظور کرکے ایک پیغام دے۔

بیشتر حکومتی اراکین نے تو اس کی مخالفت کی لیکن ریاض پیرزادہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کے حق میں بات کی اور کہا کہ ’لوٹے کے علاوہ توا بھی ہوتا ہے جس پر بھی خاصی کالک ہوتی ہے‘۔

انہوں نے اپنی حکومت کی حامی جماعت ایم کیو ایم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کل تک ان سے جناح پور کے نقشے نکلے تھے لیکن اب وہ اچھے بچے بن گئے ہیں۔

ریاض پیرزادہ نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی مبینہ دھاندلی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ یہ روایت ختم ہونی چاہیے کہ جو حکومت چاہے وہ قانون کے مطابق ہے اور جو اپوزیشن والے بات کریں وہ خلاف قانون ہے۔

ان کی اس بات پر حزب اختلاف والوں نے زوردار انداز سے ڈیسک بجاکر ان کو داد دی۔

منگل کو ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا اور بارہ صفحات پر مشتمل ایک سو چونتیس نکاتی ایجنڈا دیا گیا تھا لیکن ایک بھی نکتے پر کارروائی نہیں ہوسکی۔

اراکین پہلے تو نکتہ اعتراضات پر بات کرتے رہے لیکن بعد میں قواعد معطل کرکے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں تحریک التویٰ پر بحث کی۔ ایوان کا زیادہ وقت نکتہ اعتراضات پر بات کرنے میں گزرا جس پر حکومتی رکن ایم پی بھنڈارا نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ بھی کیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب جمعہ نو ستمبر کو ہوگا

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد