BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 September, 2005, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف ہٹاؤ تحریک اور ہڑتال

قومی لیڈر کانفرنس
قومی لیڈر کانفرنس میں تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
پاکستان میں حزب اختلاف کی بیشتر سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور نو ستمبر کو عوام سے ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

یہ اعلان اتوار کے روز متحدہ مجلس عمل کے زیرانتظام بلائی گئی قومی کانفرنس کے موقع پر اتفاق رائے سے کیا گیا۔ کانفرنس میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت، قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت وکلا، ریٹائرڈ فوجی اور دانشور بھی شریک تھے۔

کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق مصروفیات کی وجہ سے خود تو شریک نہیں ہوئے لیکن ان کے نمائندے موجود تھے۔

اس موقع پر جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ قاضی حسین احمد نے پڑھا جس کی مخدوم امین فہیم، راجہ ظفرالحق، عمران خان، محمود خان اچکزئی سمیت تمام شرکاء نے منظوری دی۔

اعلامیہ میں عہد کیا گیا ہے کہ تمام جماعتیں ملک میں سنہ تہتر کے اس آئین کی بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گی جو صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی شکل میں موجود تھا۔

ماضی میں جب بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف وزیراعظم تھے تو قاضی حسین احمد نے ان کے خلاف تحریکیں چلائی تھیں لیکن قومی کانفرنس میں قاضی حسین احمد نے ان وطن واپسی میں حکومتی رکاوٹوں کی مذمت کی اور انہیں وطن آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر منظور کی گئی قرارداد میں پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کی حالیہ ملاقات پر کوئی تبصرہ یا براہ راست ذکر تو نہیں تھا اور قاضی حسین احمد کو کہنا پڑا کہ کچھ معاملات کا ذکر اشاروں میں ہے اور اسے ان کے مؤقف کے مطابق سمجھا جائے۔

واضح رہے کہ قاضی حسین احمد نے دو روز قبل خورشید محمود قصوری کی اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اراکین نے اسمبلی میں صرف یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اس اہم معاملے میں پارلیمان کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

کانفرنس کے موقع پر جو قاضی حسین احمد نے قرارداد پڑھی اس میں لکھا تھا کہ ’یہ اجلاس حکمرانوں کی آمرانہ روش کی مذمت کرتا ہے جس کے تحت پارلیمینٹت قومی رہنماؤں اور قوم کو اعتماد میں لیے بغیر فرد واحد کے ایماء پر کشمیر اور فلسطین جیسے اہم ترین مسائل کو متفقہ قومی موقف اور قائد اعظم کے فرامین کے برعکس یک طرفہ اور بنیادی تبدیلیاں کرکے یو ٹرن لیا جارہا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے تمام سرکردہ جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ’سٹیئرنگ کمیٹی‘ بنائی گئی ہے جو جلد سے جلد احتجاج کی حکمت عملی وضح کرے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ جو جہاں ہے وہاں احتجاج کرے گا اور کوئی نیا اتحاد نہیں بنے گا۔

ان کے مطابق تمام جماعتوں کا مقصد ایک ہے کہ آمریت ختم ہو، تہتر کا آئین بحال ہو، آزادانہ اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد