’اس دھاندلی کی تو مثال نہیں ملتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی نے کہا ہے کہ اگر موجودہ حکمران آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے میں ناکام رہے تو پھر اپوزیشن اقوام متحدہ کو بھی دعوت دے سکتی ہے کہ وہ اس ملک میں آکر انتخابات کرائے لیکن یہ بہرحال ایک انتہائی اقدام ہوگا جو اپوزیشن فی الحال نہیں چاہتی۔ اے آر ڈی کا اجلاس پیپلز پارٹی پارلینمٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم کی زیر صدارت آج لاہور میں ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے صوبائی عہدیداروں نے رپورٹیں پیش کیں جس کے بعد اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا نےاخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حکمرانوں نے بلدیاتی انتخابات میں مکمل دھاندلی کی ہے اور اس دھاندلی کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اے آر ڈی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ صدرمشرف کی چھتری تلے کوئی الیکشن منصفانہ ہوسکتے ہیں نہ ہی عام انتخابات کے لیے موجودہ حکمرانوں سے کوئی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے اے آر ڈی کا مطالبہ ہے کہ سنہ انیس سو تہتر کے آئین کو اکتوبر سنہ ننانوے کی حالت میں بحال کیا جائے، آزاد اور خود مختار کمشن قائم کیا جاۓ اور عوام کی مقبول قیادت کی وطن واپسی کے راستے کھولے جائیں۔ پاکستان کے دو سابق وزرائےاعظم پیپلز پارٹی کی بے نظیر اور مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف ان دنوں بیرون ملک مقیم رہنے پر مجبور ہیں۔ اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر مقبول قیادت کو ملک میں بلائے بغیر الیکشن کروائے جائیں تو عوام کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر حکومت ان کے یہ تینوں مطالبات نہیں مانے گی تو پھر ہم اقوام متحدہ کو اس بات کی دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ پاکستان آ کر ایک آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کروائے لیکن ان کے بقول یہ ایک انتہائی اقدام ہوگا اور ان کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان میں حکومت ہی یہ کام کروا دے۔ انہوں نے کہ اے آر ڈی کے اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے دونوں مرحلوں کے نتائج مسترد کر دیے ہیں اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ صدر مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ انہو ں نے کہا کہ اے آر ڈی نے اکتیس اگست سے سندھ میں پیپلز پارٹی کے زیراہتمام چلنے والی تحریک کی بھرپور حمایت اور اس میں شرکت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات نوید چودھری نے بتایا کہ اجلاس میں مخدوم امین فہیم نے تجویز پیش کی کہ صدر مشرف کی موجودگی میں کراۓ گئے آئندہ کسی بھی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتیں حصہ نہ لیں تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ کو تین ستمبر کے آئندہ سربراہی اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس اسلام آباد میں ہوگا جس میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ایک احتجاجی تحریک شروع کیے جانے کے بار ے میں بھی اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||