سیاسی وفاداریاں بدل رہی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِاعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اتوار کے روز ملتان کا سیاسی لحاظ سے ایک طوفانی دورہ کیا جس کی لپیٹ میں آئی مسلم لیگ (ن) کیونکہ اس سے تعلق رکھنے والے کئی اہم رہنماؤں نےاس موقع پر مسلم لیگ(ق) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دورے کے موقع پر حکومتی پارٹی میں شامل ہونے والے مسلم لیگ (نواز) کے سرکردہ رہنماؤں میں پارٹی کے ضلعی صدر رکن پنجاب اسمبلی مجاہد علی شاہ، صوبائی نائب صدر حافظ اقبال خاکوانی، سابق ارکان قومی اسمبلی جاوید علی شاہ اور شیخ محمد طاہر رشید شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مسلم لیگ (نواز) چھوڑ کر آنے والے ہر رہنما کا شکریہ ادا کرنے ان کے گھر گئے اور وہاں لوگوں کے اجتماعات سے بھی خطاب کیا۔سال دو ہزار دو میں ہونے والے عام انتخابات میں تمام نامسائد حالات کے باوجود ملتان ضلع میں مسلم لیگ (نواز) کی کارکردگی قابلِ اطمینان رہی تھی۔ ضلع کے حصے میں آنے والی قومی اسمبلی کی چھ اور صوبائی اسمبلی کی تیرہ نشستوں میں سے مسلم لیگ (نواز) پارلیمان کی دونوں سطحوں پر دو، دو نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔تاہم مسلم لیگ (نواز) کی ٹکٹ پر جیتنے والے رکن قومی اسمبلی دیوان جعفر آغاز ہی میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بن کر اپنی پارٹی کو داغ مفارقت دے گئے تھے۔ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے نواز شریف خاندان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جدہ جانے والے دس سال کا معاہدہ کر کے ملک سے باہر گئے تھے لیکن اب وہ دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ مسلم لیگ (نواز) اور پی پی پی کے سیاسی اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سچا مسلم لیگی کبھی بھی اے آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) کے راستے پیپلز پارٹی والوں کا ساتھی نہیں بن سکتا کیونکہ مسلم لیگ کا اپنا نظریہ ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وضاحت کی کہ مسلم لیگ بدعنوانی، غربت اور بے روزگاری کو ختم کرنے کے نظریے پر عمل پیرا ہے جبکہ پی پی پی اپنے دور میں ان برائیوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ مسلم لیگ (نواز) چھوڑنے والے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ قیادت کے ملک سے باہر جا بیٹھنے سے کارکن مایوس ہورہے تھے جبکہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر پارٹی کی حیثیت پی پی پی کے مقابلے میں دوسرے درجے کی ہو کر رہ گئی ہے۔ جاوید علی شاہ نے کہا کہ کسی بڑی تنظیم میں کم اہم مقام پر کام کرنے کی بجائے کسی چھوٹی تنظیم میں اعلیٰ عہدہ پر آنا زیادہ بہتر ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (نواز) کے رکن قومی اسمبلی رانا محمودالحسن نے رابطہ کرنے پر کہا کے پارٹی چھوڑنے والے کافی عرصے سے اس کوشش میں تھے تاہم حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر انہیں لینے کا فیصلہ کیا تاکہ رائے عامہ کو حکومتی امیدواروں کے حق میں ہموار کیا جاسکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||