BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 23:54 GMT 04:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جماعت اسلامی اور پی ایم ایل جھڑپ

لاہور
دونوں جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ ’لاہور کو کراچی بننے نہیں دیں گے‘
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بلدیاتی انتخابات کی روائتی کشیدگی کے دوران حکمران مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں منگل کے روز تصادم ہو گیا۔ صوبائی وزیر سیاحت میاں اسلم اقبال کی موجودگی میں اچانک فائرنگ ہوگئی جس سے کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

حکمران مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے ایک دوسرے پر ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے الزامات عائد کیے ہیں اور دونوں سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ لاہور کو کراچی نہیں بننے دیا جائے گا۔

یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال سمن آباد کی ایک مسجد میں مبینہ طور پر ایک یونین کونسل کے امیداور کے حق میں بات کرنے لگے۔اس پر مخالف امیدوار کے حامیوں نے مداخلت کی۔

 یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال سمن آباد کی ایک مسجد میں مبینہ طور پر ایک یونین کونسل کے امیداور کے حق میں بات کرنے لگے۔اس پر مخالف امیدوار کے حامیوں نے مداخلت کی

مسجد کے باہر فائرنگ ہوئی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور عدیل نامی ایک شخص زخمی ہوگیا۔

لاہور کے سابق مئیر میاں میاں عامر محمود نے لاہور پریس کلب میں ایک ہنگامی اخباری کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی نے صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک راہ گیر زخمی ہوا لیکن صوبائی وزیر بچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں بھی امن وعامہ تباہ کر رکھا ہے اور اب وہ لاہور کا امن خراب کرنا چاہتی ہے لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر جماعت اسلامی لاہور کے امیر حافظ سلمان بٹ نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر کے حامیوں نے یونین کونسل میں جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ امیدوار کے انتخابی دفتر پر فائرنگ کی جس سے ان کی جماعت کا ایک کارکن زخمی ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی جماعت اسلامی کے چھ کارکن ہلاک کیے گئے اور اب لاہور میں بھی ایسا ہی سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن لاہور میں ان کی جماعت ایسا نہیں ہونے دے گی۔

رات گئے تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

لاہور کے سنئیرسپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن عامر ذوالفقار نے کہا کہ ابھی وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس مقدمے کا مدعی کون اور ملزم کون ہوگا تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ ضرور درج کیاجائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد