جماعت اسلامی اور پی ایم ایل جھڑپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بلدیاتی انتخابات کی روائتی کشیدگی کے دوران حکمران مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں منگل کے روز تصادم ہو گیا۔ صوبائی وزیر سیاحت میاں اسلم اقبال کی موجودگی میں اچانک فائرنگ ہوگئی جس سے کم از کم ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ حکمران مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے ایک دوسرے پر ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے الزامات عائد کیے ہیں اور دونوں سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ لاہور کو کراچی نہیں بننے دیا جائے گا۔ یہ فائرنگ اس وقت ہوئی جب صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال سمن آباد کی ایک مسجد میں مبینہ طور پر ایک یونین کونسل کے امیداور کے حق میں بات کرنے لگے۔اس پر مخالف امیدوار کے حامیوں نے مداخلت کی۔ مسجد کے باہر فائرنگ ہوئی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور عدیل نامی ایک شخص زخمی ہوگیا۔ لاہور کے سابق مئیر میاں میاں عامر محمود نے لاہور پریس کلب میں ایک ہنگامی اخباری کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی نے صوبائی وزیر کی گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک راہ گیر زخمی ہوا لیکن صوبائی وزیر بچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں بھی امن وعامہ تباہ کر رکھا ہے اور اب وہ لاہور کا امن خراب کرنا چاہتی ہے لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھر جماعت اسلامی لاہور کے امیر حافظ سلمان بٹ نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر کے حامیوں نے یونین کونسل میں جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ امیدوار کے انتخابی دفتر پر فائرنگ کی جس سے ان کی جماعت کا ایک کارکن زخمی ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی جماعت اسلامی کے چھ کارکن ہلاک کیے گئے اور اب لاہور میں بھی ایسا ہی سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن لاہور میں ان کی جماعت ایسا نہیں ہونے دے گی۔ رات گئے تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔ لاہور کے سنئیرسپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن عامر ذوالفقار نے کہا کہ ابھی وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس مقدمے کا مدعی کون اور ملزم کون ہوگا تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ ضرور درج کیاجائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||