کامیابی کے متضاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے کےاختتام کے بعد غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے جیتنے والے حامیوں کی تعداد کے بارے میں بھی متضاد دعوے کر رہی ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف کی جیت کے بارے میں متضاد دعوؤں کی اصل حقیقت الیکشن کمیشن کی جانب سے تین بعد جاری ہونے والے نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ پاکستان کے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے انتخابات کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد کہا ہے کہ ملک کے چوّن اضلاع میں ووٹنگ کی شرح پینتالیس فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں پولنگ سٹیشن کے اندر نہیں ہوئیں اس لیے انہیں انتخابی ہلاکتیں نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کے انگریزی اور اردو اخبارات نے جمعرات کو ختم ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے موقع پر ہلاکتوں کے مئتلف اعدادو شمار شائع کیے ہیں۔ ان اخبارات کے مطابق یہ تعداد اٹھائیس سے بیالیس تک ہے۔ ملک بھر سے آزاد ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انتخابات کے موقع پر جمعرات کے روز تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم تیس بتائی جاتی ہے۔ دریں اثنال دوسرے مرحلے کے بعد حکمران اتحاد حیدرآباد، لاڑکانہ، خیر پور اور سکھر سمیت بعض شہروں میں اپنی اکثریتی جیت کے دعوے کر رہا ہے جبکہ نوابشاہ اور دیگر شہروں سے پاکستان پیپلز پارٹی زیادہ ناظمین کی جیت کی دعویدار ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹر، تین وفاقی وزراء اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنماؤں کے آبائی شہر راولپنڈی میں بھی جیت کے حکومت اور حزب اختلاف کے دعوؤں میں تضاد ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے لال حویلی کے حمایت یافتہ ستائیس ناظمین جوڑوں کی کامیابی کا دعویٰ کیا جبکہ حزب اختلاف کے دو بڑے اتحاد ’اے آر ڈی‘، اور متحدہ مجلس عمل کا دعویٰ ہے کہ ان کے مشترکہ کامیاب امیدواروں کی تعداد حکومتی حامیوں سے زیادہ ہے۔ پاکستان کے کل ایک سو دس اضلاع میں سے الیکشن کمیشن نے ترپّن اضلاع میں پہلے مرحلے کے دوران اٹھارہ اگست کو پولنگ کروائی۔ جس میں سے صوبہ سندھ کے ایک ضلع گھوٹکی میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے نئی بننے والی سات یونین کونسلز کو کالعدم قرار دینے کے حکم کی وجہ سے پورے ضلع میں انتخابات عین وقت پر ملتوی کیے گئے اور تاحال نئے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں چھپن اضلاع میں پچیس اگست کو ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا گیا جس میں سے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں تمام امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے اور چوّن اضلاع میں پولنگ ہوئی۔ صوبہ سرحد کے ضلع صوابی اور نوشہرہ کی سات پولنگ سٹیشن پر خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے دوبارہ پولنگ ہونی ہے جبکہ چاروں صوبوں کی بعض یونین کونسلز میں امیدواروں کے شیڈول جاری ہونے کے بعد وفات پا جانے کی وجہ سے دوبارہ پولنگ ہو گی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ اس بلدیاتی نظام کی دوسری مدت کے ان انتخابات کا تیسرے اور آخری مرحلے میں ضلع اور تحصیل ناظمین کا انتخاب انتیس ستمبر کو ہوگا اور نتائج یکم اکتوبر تک جاری کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ مقامی انتخابات کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ واضح رہے کہ اب تک ہونے والے دونوں مراحل میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے حکومت پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کرنے اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال اور الیکشن کمیشن پر مکمل طور پر ناکام ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں جبکہ حکومت اور الیکشن کمیشن نے ایسے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||