تشدد آمیز دوسرے مرحلے کا اختتام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں تین ہزار سے زیادہ یونین کونسلوں کے لیے پولنگ جمعرات کی شام ختم ہوگئی جس میں الیکشن کمیشن کے ابتدائی اندازوں کے مطابق کل ووٹروں کے بیالیس فیصد نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابی جھگڑوں میں 22 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں پنجاب میں 14، سندھ میں 2 ، سرحد میں 2 اور بلوچستان میں 4 افراد مارے گئے جبکہ ملک بھر میں انتخابی تشدد میں 150 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لاہور کے قریب مراکہ میں شدید تصادم کے بعد فوج طلب کرلی گئی۔ تاہم وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر ووٹ ڈالنے کی شرح بیالیس فیصد رہی۔ لاہور سمیت کئی شہروں میں بعض پولنگ مراکز پر ووٹنگ اس بنیاد پر بند کردی گئی کہ وہاں مہیا کیے گئے بیلٹ پیپرز پر حزب اختلاف کے امیدواروں کے نشان نہیں تھے۔ پنجاب میں انتخابی جھگڑوں میں لاہور میں تین افراد، مریدکے (شیخوپورہ) میں دو، جڑانوالہ (فیصل آباد) میں تین، نارووال، جھنگ، جہلم، اٹک، اوکاڑہ اور راولپنڈی میں ایک ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ لاہور کے پاس مراکہ گاؤں میں انتخابی فریقوں کے درمیان تصادم بہت شدید تھا جہاں فوج بلائی گئی اور شام تک صورتحال کشیدہ تھی۔ گجرات میں موجود ہمارے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ انتخابی تصادم کے نتیجہ میں بیس سے زیادہ افراد شدید زخمی ہوئے جن میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما فخر پگانوالہ بھی شامل ہیں۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ حیدرآباد ضلع میں دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بعد ایم ایم نے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ایم ایم اے کے ایم پی اے رحمان راجپوت نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں پر بیٹھنے ہی نہیں دیا گیا ہے۔ اور دھاندلی کرکے بیلٹ باکس بھرے گئے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما نثار کھڑو نے کہا ہے کہ ان کے گاؤں عاقل لاڑکانہ میں قتل ہونے والے چار افراد ان کے ووٹر تھے جن کو مخالفوں نے نشانہ بنا کر قتل کیا ہے۔ پنجاب کی اٹھارہ سو دس یونین کونسلوں کے لیے تقریبا بیس ہزار پولنگ مراکز پر پولنگ ہوئی جہاں ایک کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ ووٹرز رجسٹرڈ تھے۔ تاہم لاہور اور دوسرے شہروں میں دوپہر تک پولنگ مراکز خالی پڑے تھے لیکن آخری دو گھنٹوں میں زیادہ ووٹرز نطر آئے۔ قائم مقام چیف الیکشن کمیشن نے صبح لاہور میں آٹھ ووٹنگ مراکز کا دورہ کیا جہاں صبح گیارہ بجے تک صرف چند ووٹ ہی ڈالے گئے تھے۔ الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ووٹنگ مجموعی طور پر پر امن رہی ہے اور دھاندلی کی شکایات نہیں ملیں۔ اندرون سندھ میں انتخابات کے دوران مختلف پولنگ سٹیشنوں پر تصادم کے دوران چھ افراد ہلاک جبکہ اکیاون سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ سندھ میں کئی جگہوں پر تصادم کے بعد پولنگ روک دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دادو کے ڈی پی او سمیت پنتالیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ مگسی گروپ نےالزام لگایا ہے کہ متوفی چوٹ لگنے سے ہلاک ہوا ہے جبکہ عوام دوست کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولنگ بند کر دی گئی اور لوگ واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ مگسی اتحاد کے حمایتیوں نے سڑک پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔ حیدرآباد میں زبیدہ گرلز کالج کے پولنگ سٹیشن پر ایم کیو ایم اور پی پی کے حامیوں کے درمیان جھگڑے کے بعد پی پی کے حامیوں نے جیل روڈ پر مظاہرہ کیا۔ ملک کے مختلف حصوں سے ہمارے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ دن کے پہلے حصے میں پولنگ سٹیشنز پر اکثر مقامات پر لوگوں کے جوش و خروش میں کمی دیکھنے میں آئی اور روایتی گہما گہمی کا فقدان رہا۔ تاہم دوپہر کے بعد پولنگ کی رفتار میں نسبتاً تیزی آئی ہے۔ لوئر دیر سے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا ہے کہ انتخابی گہما گہمی صرف مردوں کے پولنگ سٹیشنز تک محدود رہی جبکہ خواتین کے پولنگ سٹیشننز پر انتہائی کم تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں جس کی وجہ مقامی رسم و رواج بتائی گئی ہے۔ سکھر سے بی بی سی کے نامہ نگار علی حسن کے مطابق سندھ میں اکثر پولنگ سٹیشینز پر پولنگ کے سامان کی عدم دستیابی کی شکایت کی گئی۔ شہداد کوٹ میں امیدواروں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی ملیں۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیزاللہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مقامی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر پولنگ پرامن طریقے سے ہوئی تاہم ژوب کے علاقے سے جھگڑوں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
لاہور میں خواتین کے ووٹنگ مراکز پر مردوں کے پولنگ مراکز کی نسبت زیادہ ہجوم اور بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ کچھ خواتین ووٹروں نے شکایت کی کہ انہیں ووٹ ڈالنے سے روکا جارہا ہے۔ مغل پورہ میں یونین کونسل اکتیس کے ایک پولنگ اسٹیشن (ہیلتھ سینٹر ریلوے کالونی) میں پولنگ بوتھ میں امیدواروں کی ایجنٹ خواتین کے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی اور ووٹر عورتیں پردہ کے بجائے سب کے سامنے بیلٹ پیپروں پر مہریں لگارہی تھیں۔ جماعت اسلامی لاہور کے رہنما امیرالعظیم نے کہا ہے کہ اس بار ہر حلقہ کا الگ بیلٹ پیپر شائع نہیں کیے گئے ہیں بلکہ چار، آٹھ اور بارہ کے نشان والے بیلٹ پیپرز بڑی تعداد میں شائع کیے گئے ہیں جو ہر پولنگ مرکز پر مہیا کردیا گیا۔ اس سے ایک جگہ کے بیلٹ پیپرز دوسری جگہ استعمال ہونے کا امکان ہے اور شام کو بیلٹ باکس بھرے ہوئے ملیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مارکیٹ میں بیلٹ پیپر موجود تھے اور وہ خریدے جارہے تھے۔ حکمران مسلم لیگ کے لاہور کے سابق نائب ناظم اور رکن قومی اسمبلی فاروق امجد میر کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے الزامات لگانا ایک معمول ہے۔ فیصل آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سڑکوں اور بازاروں کے پولنگ مراکز پر ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی لیکن گلی محلوں کے پولنگ سٹیشنوں میں اور خاص طور سے عورتوں کے مراکز پر زیادہ ہجوم نظر آیا۔
چودھری پرویز الٰہی کے رہائشی ضلع گجرات میں ایک یونین کونسل میں حزب اختلاف کے ناظم کے امیدوار رشید میر کو گرفتار کرلیا گیا تھا جنہیں آج عدالت کے حکم پر رہا کیاگیا لیکن فورا ہی پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ پنجاب کے اٹھارہ اور سندھ، بلوچستان اور سرحد کے بارہ بارہ اضلاع میں تین ہزار ایک سو چوہتر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں جن میں سے دو سو تین ناظم اور نائب ناظم اور ایک ہزار آٹھ سو اٹھانوے خواتین امیدوار ہیں۔ جون کے آخری ہفتہ میں انتخابی شیڈول کے اعلان سے شروع ہونے والے اس انتخابی عمل کا ایک بڑا حصہ جمعرات کو پورا ہوجائے گا۔ اس کے بعد یونین کونسلوں کے منتخب ہونے والے چھ ہزار سے زیادہ ناظم اور نائب ناظم انتیس ستمبر کو تحصیلوں، ٹاؤنز اور ضلعوں کے ناظموں کا انتخاب کریں گے۔
پولنگ کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے لیے پنجاب کے گیارہ، سندھ کے چار، اور بلوچستان کے تین اضلاع کو انتہائی حساس قرار دے کر پولیس کے ساتھ فوج اور نیم فوجی دستوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد، راولپنڈی اور جھنگ سمیت متعدد اضلاع میں فوجی دستوں نے فلیگ مارچ کیا ہے۔ پنجاب کے دو ہزار چھ سو سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں پنجاب میں انتخابی جھگڑوں میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بلوچستان میں نو افراذ زخمی ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||