انتخابات: نظریں دوسرے مرحلے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے قدرے ملے جُلے نتائج کے بعد اب تمام نظریں جمعرات کے روز دوسرے راؤنڈ میں شامل مزید بارہ اضلاع پر لگی ہیں۔ دوسرے مرحلے کے سلسلے میں پولنگ کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پہلے مرحلے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چند سبق بھی حاصل کیےگئے ہیں۔ ان میں پہلا سبق نتائج کےاعلان کے بعد جیت کے جلوسوں پر پابندی ہے۔ صوبہ سرحد میں انتخابی مہم یا پولنگ سے زیادہ تشدد بعد میں کامیابی کے جلوس نکالنے کی وقت دیکھا گیا ہے۔ اکوڑہ خٹک سمیت کئی علاقوں میں جیتنے والے امیدواروں کے حامیوں نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ان تمام اضلاع میں جہاں پولنگ ہوگی دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے جلوس نکالنے کی صورت میں امیدوار کو نااہل قرار دینے کی بھی دھمکی دی ہے۔ مبصرین اسے ایک احسن قدم قرار دے رہے ہیں جس سے دوسرے مرحلے میں تشدد کے سلسلے کو روکنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔ دوسرے مرحلے میں صوبے کے جن بارہ اضلاع میں پولنگ ہوگی ان میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان، سوات، شانگلہ، اپر اور لوئر دیر، چترال، ہنگو، لکی مروت اور ملاکنڈ شامل ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ پر حکومت پہلے مرحلے کی طرح دوسرے میں بھی بے بس دکھائی دے رہی ہے۔
ان بارہ اضلاع میں دیراور بٹگرام کے وہ ضلع بھی شامل ہیں جن میں انتخابات کے آغاز پرعورتوں کےانتخاب لڑنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ بعد میں حکومت کے دباؤ میں آ کر وہاں کےمردوں نےعورتوں کو کاغذات نامزدگی تو داخل کرانے دیے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں ووٹ بھی ملتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ عورتیں کو بھی ووٹ ڈالنے کے لیےگھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔ اس مرتبہ مثبت بات یہ ہے کہ دیر سےاطلاعات کے مطابق خواتین کو پولنگ سے دور رکھنے سےمتعلق ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بڑی سیاسی جماعتوں کےمقامی رہنما عورتوں کو پولنگ سے دور رکھنے کے لیے باقاعدہ تحریری معاہدے کیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ حکومتی پکڑ سے بچنے کے لئے خیال ہے کہ تحریری معاہدے نہ ہوں لیکن اندر ہی اندر امیدواروں اس پر متفق ہوں۔ اس مرتبہ ضلع دیر پائین کے بازار، مساجد اور دیگر اہم مقامات پر خواتین امیدواروں کے بغیر تصویر والے بینرز اور پوسٹرز چسپاں کیے گئے ہیں۔ علاقے سےاطلاعات ہیں کہ ماسوائے جمیعت علما اسلام، تمام دیگر جماعتیں اپنے خواتین امیدواروں کے لیے ووٹ مانگ رہی ہیں۔ یہ علاقے کے رسم و رواج میں بڑی تبدیلی مانی جا رہی ہے۔
ان انتخابات میں دلچسپ بات دورافتادہ پہاڑی ضلع کوہستان سے کسی بھی خاتون امیدوار کا کھڑے نہ ہونا ہے۔ ادھر آٹھ اضلاع میں کسی اقلیتی امیدوار کا سامنے نہ آنا بھی تعجب خیز بات قرار دی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں کامیابیوں کے بڑھ چڑھ کر دعوی کرنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے نظریں اب ان اضلاع پر ہیں۔ پہلے مرحلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے حمایتی گروپ نے سب سے زیادہ یونین کونسلوں میں کامیابی حاصل کر کے جماعت کی کھوئی ہوئی ساکھ قدرے بحال کرنے میں مدد دی ہے۔ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی کا الخدمت گروپ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جماعتیں دوسرے مرحلے میں بھی اپنی سبقت برقرار رکھ پاتی ہیں یا نہیں۔ حکام نےصوبہ کے تین اضلاع ہنگو، بٹگرام اور دیر کو حساس قرار دیا ہے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کردیے گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||