BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 August, 2005, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
47422 خواتین امیدوار میدان میں

خواتین امیدوار
750مخصوص نشستوں پر کسی خاتون امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔
ملک بھر کی یونین کونسلوں میں عورتوں کی چوبیس ہزار سے زیادہ مخصوص نشستوں کے لیے سینتالیس ہزار چار سو بائیس خواتین امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

یوں اوسطا فی نشست دو خواتین امیدوار (ایک اعشاریہ نو) میدان میں ہیں جو کہ گزشتہ مقامی انتخابات کی نسبت اس مرتبہ عورتوں کی زیادہ شرکت کا اظہار ہے۔

گزشتہ مقامی انتخابات میں عورتوں کی چھتیس ہزار ایک سو بتیس نشستوں پر اڑتالیس ہزار آٹھ سو پینتیس خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا اور یہ اوسط فی نشست ایک اعشاریہ چار امیدوار کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں چار ہزار نواسی نشستوں پر کسی مقابلہ کے بغیر خواتین کونسلر منتخب ہوچکی ہیں اور تقریبا ساڑھے سات سو مخصوص نشستوں پر کسی خاتون امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔

عورتوں کی عمومی مخصوص نشستوں پر چوبیس ہزار اکہتر امیدوار میدان میں ہیں جبکہ مزدور کسان عورتوں کی مخصوص نشستوں پر تئیس ہزار تین سو اکیاون امیدوار ہیں۔ ملک کی چھ ہزار سے زیادہ یونین کونسلوں میں خواتین کی چوبیس ہزار پانچ سو بارہ مخصوص نشستیں ہیں۔

 ملک بھر میں چار ہزار نواسی نشستوں پر کسی مقابلہ کے بغیر خواتین کونسلر منتخب ہوچکی ہیں اور تقریبا ساڑھے سات سو مخصوص نشستوں پر کسی خاتون امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے
الیکشن کمیشن

ملک کے ایک سو دس ضلعوں میں الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق عورتوں کی مسلم عمومی نشستوں پر تیرہ سو اکیاون خواتین کونسلرز بلامقابلہ منتخب ہوچکی ہیں جبکہ مزدور اور کسان عورتوں کی نشستوں پر دو ہزار سات سو اڑتیس کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کش خواتین امیدواروں کی تعداد کم ہے۔

پنجاب میں سترہ سو اکتیالیس خواتین مخصوص نشستوں پر بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ سندھ میں سات سو پچیس، صوبہ سرحد میں گیارہ سو پچاس اور بلوچستان میں چار سو تہتر خواتین کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔

دوسری طرف، پورے میں ملک میں عورتوں کی مخصوص سات سو بائیس نشستیں خالی ہیں جہاں کسی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کرائے۔ پنجاب کی یونین کونسلوں میں عورتوں کی ایک سو چوالیس مخصوص نشستیں خالی ہیں، سرحد میں چار سو چورانوے، بلوچستان میں ستاون اور سندھ میں پہلے مرحلہ میں ستائیس نشستیں خالی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے کے اعداد و شمار ابھی دستیاب نہیں۔

کوئی مقابل نہیں
پنجاب میں سترہ سو اکتالیس، سندھ میں سات سو پچیس، صوبہ سرحد میں گیارہ سو پچاس اور بلوچستان میں چار سو تہتر خواتین کونسلرز بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔

ملک میں چھ کروڑ اڑتیس لاکھ ووٹروں میں تقریبا تین کروڑ خواتین ووٹرز ہیں۔ گویا ان انتخابات میں زور وشور سے حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور مقامی دھڑوں کو تین کروڑ خواتین ووٹروں میں سے تمام چوبیس ہزار نشستوں پر خواتین امیدوار نہیں مل سکیں یا کسی اور وجہ سے وہ کھڑی نہیں ہوئیں۔

مقامی انتخابات سے پہلے قانون میں ترمیم کی گئی تھی اور ہر یونین کونسل میں کونسلروں کی تعداد اکیس سے کم کرکے تیرہ کردی گئی تھی جس سے خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد میں ملک بھر کی یونین کونسلوں میں میں بارہ ہزار سے زیادہ کی کمی ہوئی۔

جب قانون میں یہ ترمیم متعارف کرائی گئی تو ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے خواتین کی مخصوص نشستیں کم ہوجائیں گی اور ساتھ ہی ان کی شرکت بھی کم ہوجائے گی۔ سنہ دو ہزار اور دو ہزار ایک میں ہونے والے مقامی انتخابات میں یونین کونسلوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد چھتیس ہزار ایک سو بتیس تھی جن پر اڑتالیس ہزارآٹھ سو پینتیس خواتین نے الیکشن لڑا تھا۔

گزشتہ نظام میں یونین کونسلوں، تحصیل کونسلوں اور ضلع کونسلوں میں خواتین کونسلرز کی تعداد کو ملا کر تقریبا ستر ہزار خواتین مقامی نظام حکومت کا حصہ تھیں۔ اب یہ تعداد تقریبا اٹھاون ہزار رہ گئی ہے۔

عورتوں کی انتخابات میں شرکت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں سیاسی جماعتیں یا مقامی حریف دھڑے عورتوں کی مخصوص نشستوں پر باہمی تصفیہ کرکے یہ نشستیں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جس سے خواتین امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوجاتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد