تھر میں کسی کو شکایت نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کےضلع تھرپارکر میں کوئی بھی امیدوار یا کسی امیدوار کا حامی ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر کے پاس شکایات کرنے نہیں گیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے منگل کو تھرپارکر میں امیدواروں کے مبینہ اغوا، ان کو ہراساں کرنے کی شکایات اور بڑی تعداد میں ناظم جوڑوں کے بلامقابلہ کامیاب ہونے کی اطلاعات کا نوٹس لیا تھا اور متعلقہ ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر کو فیکٹ فائنڈنگ کی ہدایات کی تھی۔ ضلع تھر کے ڈی آر او امتیاز شاہ نے بی بی سی آن لائن کو بتایا کہ ہم سارا دن انتظار کرتے رہے ہیں۔ مگر کوئی بھی امیدوار یا اس کا حامی شکایت لیکر نہیں آیا۔ سندھ میں سب سے زیادہ رقبے پر مشتمل اس ضلع کے لوگوں کو کیا کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی تھی کے جواب میں امتیاز شاہ نے بتایا کہ اخبارات میں آیا تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہوگا۔ میرے پاس کوئی نہیں آیا۔ اس لیے میں چیف الیکشن کمشنر کو رپورٹ بھیج رہا ہوں کے میرے پاس کوئی بھی شکایت نہیں آئی ۔ اس سوال پر کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا ’خدا جانتا ہے مجھے تو معلوم نہیں ہے۔ جب تک مجھ سے کوئی شکایت نہیں کریگا میں کیسے ایکشن لونگا۔ میں خود تو ان کے پاس نہیں جاونگا‘۔ ڈی آر او نے بتایا کے کچھ دن قبل ان کے پاس دو شکایات آئی تھیں جس میں اغواء اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کے گئے تھے مگر متاثرین الزامات ثابت نہیں کرسکے۔ دوسری جانب پی پی پی کے رہنما اور سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی انجنیئر گیانچند کا کہنا ہے کہ تھرپاکر میں لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم مکمل طور پر سرکاری مشنری اور وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔ گیانچند کے مطابق ارباب غلام رحیم نے مخالفین کے لیے الیکشن لڑنا اور پولنگ پر جانے کو ناممکن بنادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے امیدواروں اور ان کے حمایتیوں کو اغوا کیاگیا اور ان کو شکایات کے لیے بھی نہیں بھی پہچنے دیاگیا۔ گیانچند کے مطابق گذشتہ انتخابات میں عوام دوست ضلع ناظم کے امیدوار صرف نو ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ جبکہ موجودہ انتخابات میں نو یونین کونسلوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ ضلع تھرپارکر میں دوسو پچانوی امیدوار بلامقابلہ کامیاب دیے گئے ہیں۔ جن میں پینتیس ناظم و نائب ناظمین ہیں۔ ضلع میں کل چوالیس یونین کونسل ہیں جس میں سے اب صرف نو پر الیکشن ہونے ہیں۔ بلامقابلہ کامیاب ہونے والوں کے تعلق ارباب گروپ سے ہے۔ بڑی تعداد میں امیدواروں کے کامیابی کے بعد اسی گروپ کے ضلع ناظم کی کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||