انتخابات: حکومت پر دھاندلی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی اور دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس ماہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی جماعتوں کے امیدواروں کے لیے حکومتی مشینری کے استعمال اور حکومت کی زیر نگرانی مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ اسلام آباد میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی یعنی اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں خاس طور پر وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم نے پولیس افسران کو دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت کے حامی امیدوار اس انتخابات میں نہ جیتے تو ان کو نوکریوں سے برخواست کر دیا جائے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے قائد قاضی حسین احمد کا دعوی ہے کہ الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کا اطلاق صرف حزب اختلاف پر کیا جا رہا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دینی مدارس کی ڈگریوں کو مسترد کرنا دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ان کے مطابق باقی تین صوبوں میں دینی مدارس کی ڈگریاں مستند تسلیم کی گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اس کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک آزاد الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات نہیں کروائے جاتے اس وقت تک حزب اختلاف کی جماعتوں کو بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ مجموعی طور پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے آل پارٹیز کانفرنس میں الیکشن کمیشن کے کردار پر نکتہ چینی کی ہے اور حکومت پر ان انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی یہ کانفرنس جمعرات کی شام تک جاری رہے گی جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔ جبکہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کڑے اقدامات کیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||