BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 August, 2005, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر سیاسی عمل سے بالا ہیں: ڈوگر

مشرف
صدر مشرف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حکمراں جماعت کے امیدواروں کے حق میں بیانات دیتے ہیں
پاکستان کے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے آئندہ ہفتے ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں حکمران مسلم لیگ کے جلسوں میں شرکت یا مسلم لیگ کے امیدواروں کے حق میں ان کے بیانات کو غیر قانونی یا غیر آئینی قرار دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر سارے ملک کے صدر ہیں اور وہ پارٹی سیاست سے بالاتر ہیں۔

اسلام آباد میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لئے بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں اگر کوئی سیاسی جماعت کسی امیدوار کی انتخابی مہم چلاتی ہے یا اسے پیسے دیتی ہے تو یہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور اس بارے میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا صدر تو ملک کے سربراہ ہیں اور وہ سیاسی آدمی نہیں ہیں لہذا وہ سیاسی عمل سے بالاتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر کسی مخصوص امیدوار کی انتخابی مہم نہیں چلا رہے اور بلدیاتی انتخابات میں صدر کی مداخلت بالواسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے پھر کہا کہ صدر ساری قوم کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ الیکشن تو غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل بلدیاتی انتخابات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انہوں نے ان انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ ان اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کے اعلان کے بعد تریسٹھ سرکاری افسران کے تبادلے اور تقرریوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے بھی گریز کیا کہ اس الیکشن میں کئی حلقوں میں حکومتی امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت سے شکایات پر کارروائی کی ہے جس کے بعد اس الیکشن پر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا اعتراض بلا جواز ہے۔

الیکشن کمشنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے صوبائی و ضلعی پولیس افسران اور ضلعی ریٹرننگ آفسران سے سیاسی زیادتی،امیدواروں کے اغوا، پولیس کے جبر اور جھوٹے مقدمات کے اندراج کا نوٹس لیا تھا مگر اس سلسلے میں جب رپورٹس آئیں تو ان میں سے زیادہ تر میں یہ ثابت ہوا کہ ایسے واقعات سرے سے ہوئے ہی نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد