ماضی کا بوجھ یا حال کی حقیقیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف کے جمعرات کے روز قوم سے خطاب کی دو سمتیں تھیں۔ ایک طرف تو وہ پاکستانی عوام سے مخاطب تھے تو دوسری طرف پوری دنیا سے۔ اس خطاب میں انہوں نے زیادہ تر وقت پاکستان کو درپیش حالات کی تصویر کھینیچنے میں صرف کیا جس کے بارے میں شائد باہر کی دنیا کو بہت زیادہ معلومات نہ ہوں۔ لیکن شائد اس خطاب میں زیرِ سطور سب سے اہم جو بات تھی وہ یہ کہ پاکستان بیرونی دنیا کی مدد کے بغیر انتہا پسندی کو روکنے کے لئے بہت زیادہ کچھ نہیں کرسکتا۔ اس خطاب میں یہ بھی ایک اہم بات تھی کہ جنرل مشرف نے پہلے کے برعکس زیادہ کھلے انداز میں انتہا پسندی کے مسلے سے پاکستان کے بالواسطہ اور بلاواسطہ تعلق کا اعتراف کیا۔ ’کہیں بھی کچھ ہوجائے ہم اس میں بل واسطہ یا بلاواسطہ ملوث پائے جاتے ہیں۔‘ یہاں یہ بات اہم ہے کہ جنرل مشرف نے ’ملوث‘ ہونے کی طرف اشارہ کیا نہ کہ پاکستان پرالزام لگائے جانے کی بات کی۔ ’یہی سامنے آتا ہے کہ یا تو انہوں (انتہا پسندوں) نے پاکستان کا دورہ کیا ہوتا ہے یا پھر وہ یاہں سے گزر کر افغانستان گئے ہوتے ہیں۔‘ جنرل مشرف کی طرف سے اس بات کا اعتراف کرنا ملک کی موجودہ پالیسی کے برعکس ہے جس کے تحت پاکستان انتہا پسندی سے کسی قسم کے تعلق سے مکمل طور پر انکار کرتا آیا ہے۔ جنرل مشرف نے اس کے بعد اپنے خطاب میں ملک میں انتہا پسندی سے متعلق کچھ حقائق کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی کی دہائی میں افغانستان میں سویت یونین کے خلاف امریکی حمایت یافتہ جنگ کے دوران پوری دنیا میں مختلف جگہوں سے پاکستان میں بیس سے تیس ہزار شدت پسند آئے تھے۔ ان افراد کی مالی مدد پاکستان کے ذریعے ہی کی گئی تھی۔ ’اب وہ کہاں ہیں۔ ان میں سے سب تو افغانستان میں نہیں رہ گئے ہو گے۔‘ جنرل مشرف نے اس سوال کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہا۔ اگر صرف بحث کے لئے یہ تصور بھی کرلیا جائے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد نے پاکستان میں پناہ لی تو غور طلب بات یہ ہے کہ ان کو پاکستان میں کس طرح کا ماحول ملا۔ جنرل مشرف کے مطابق افغان جنگ کے نتیجے میں پاکستانی معاشرہ تین مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ان میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو ، جنرل مشرف کے بقول، قدامت پسند خیالات رکھتے ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں جو آزاد خیال ہیں اور عوام کی اکثریت ایسے افراد ہیں جو افعان جنگ کے نتیجے میں اسلام کے بارے میں مکمل طور پر کنفیوز ہوگئے ہیں۔ جنرل مشرف کے مطابق قدامت پسند طبقے پچھلے چھبیس برس سے انتہا پسندوں کی بھرتی کررہا ہے، انہیں فوجی تربیت دے رہا ہے اور نفرت انگیز لٹریچر تقسیم کررہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی مرتبہ انتہا پسند پاکستان کی بڑی مذہبی جماعتوں سے مدد بھی لیتے ہیں۔ جنرل مشرف کے بیان سے یہ اخز نہ کرنا بہت مشکل ہوگا کہ پاکستان اصل میں انتہا پسندوں کے لئے آئیڈیل ماحول فراہم کررہا ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جو تصویر کھینچی ہے اس سے بہت زیادہ لوگوں کو اختلاف نہیں ہوگا۔ آخر پاکستان کی فوج ، جسے پاکستان کی جہادی پالیسی کا خالق تصور کیا جاتا ہے، کے سربراہ کو ہی اس بارے میں سب سے زیادہ علم ہوگا کہ ملک میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ لیکن جنرل مشرف کے خطاب پر دنیا کے رہنما کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں یہ بہت اہم ہوگا۔ خود جنرل مشرف ان مسائل کا ایک کثیر جہتی حل تجویز کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ او آئی سی کو مسلم دنیا مہیں ایک زیادہ ہمہ گیر رول ادا کرنا چاہئیے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ مغربی ممالک مسلم ملکوں سے نہ صرف انہتا پسندی کے خاتمے میں بھر پور مدد کریں بلکے غربت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کریں۔ جنرل مشرف اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مغرب کو مسلم دنیا میں موجود تنازعات کے بارے میں گہرائی سے سوچنا چاہئیے۔ لیکن مجموعی طور پر اس خطاب میں زیر سطور پیغام یہی تھا کہ ان کی طرف سے انتہا پسندی کو روکنے کے لئے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے وہ اسی صورت میں کامیاب ثابت ہوسکتے ہیں جب تک مغرب اور مسلم دنیا اپنے آپسی تنازعات حل نہیں کر لیتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||