کیا کریک ڈاؤن میں کامیابی ہو گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے ایک دفعہ پھر جہادی تنظیموں کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ حکومتی اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً دو سو انتہاپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کی انتہاپسندی کے خلاف مہم صدر مشرف کی اس ہدایت کا نتیجہ ہے جو انہوں نے جمعہ کو پولیس افسران سے خطاب کے دوران دی۔ گیارہ ستمبر کی دہشت گردی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو مغرب کی جانب سے اس قدر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لندن میں دھماکے کرنے والوں کے تانے بانے پاکستان میں کام کرنے والی جہادی تنظیموں سے ملتے ہیں۔ ابھی تک کی ملنے والی اطلاعات کے مطابق لندن میں دھماکے کرنے والوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح سے جیشِ محمد کے کسی ایک گروہ سے تھا۔ لندن کے دھماکے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی جہادی تنظیمیں بین الاقوامی ایجنڈہ رکھتی ہیں۔ پاکستان پر بڑھتے ہوئے پریشر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد جہادی تنظیموں کے خلاف بروقت اقدامات کیے ہوتے تو شاید لندن کے دھماکے نہ ہوتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی انتہا پسندی کے خلاف مہم کامیاب ہو جائے گی۔ ایسا لگتا تو نہیں کیونکہ پاکستان کی انتہاپسند جہادی تنظیموں کے خلاف مہم اسی طریقے سے جاری ہے جس طرح 11 ستمبر کے واقعات کے بعد جاری رہی تھی۔ 11 ستمبر کے بعد پاکستانی پولیس نے تقریباً 2000 جہادی کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا مگر چند ماہ کے اندر ان سب کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ اس وقت ان کو آئندہ اچھے چال چلن کے وعدے پر رہا کر دیا گیا تھا۔ انہتا پسندی کےخلاف موجودہ مہم میں بھی پولیس انتہا پسند جہادیوں کو معمولی مقدمات میں گرفتار کر رہی ہے یہاں تک کہ زیادہ تر جہادی عناصر پر لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کا الزام ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جیسے ہی پاکستان پر سے پریشر کم ہو گا ان افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام جہادی تنظیمیں بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم جیشِ محمد بھی کھلے عام مختلف ناموں سے کام کر رہی ہے۔ اور اس تنظیم کا لٹریچر بھی سٹالوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کے پاس انتہا پسندی کے خلاف کوئی واضح پلان نہیں ہے۔ جیسا کہ گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان انتہا پسندی کے خلاف کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھا سکا تو ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ بھی پاکستان انتہا پسندی کو روکنے میں ناکام ہو جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||