BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 July, 2005, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختلف شہروں میں گرفتاریاں، چھاپے

مذہبی تنظیموں کے مظاہرے(فائل فوٹو)
سال میں کئی بار مذہبی تنظیموں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا
پاکستان میں حکام نے مبینہ طور پر مختلف کالعدم مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور کراچی میں تین جریدوں کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی منافرت پھیلا رہے تھے۔

ان گرفتاریوں کے بارے میں لاہور پولیس کے سربراہ طارق سلیم کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہے ہیں آیا گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق لندن بم دھماکوں میں ملوث مبینہ خود کش حملے آوروں سے ہے۔

اس کریک ڈاؤن کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد نہیں بتا سکتے تاہم اطلاعات کے مطابق لاہور، پاکپتن، خوشاب اور فیصل آباد سے کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں کراچی کمپنی کی ایک مسجد کے امام اور جی نائن فور مسجد کے ایک امام کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

منگل کو ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے راولپنڈی میں لال مسجد پر چھاپہ مارا اور سات افراد کو گرفتار کیا۔ کارروائی کے دوران مسجد سے ملحقہ مدرسے کے طلباء اور پولیس والوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ اس موقع پر پولیس نے آنسو گیس استعمال اور لاٹھی چارج کیا۔

راولپنڈی میں جیش محمد تنظیم کے تحت چلنے والے ایک جریدے ’القلم‘ کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا کر اسے سیل کر دیا گیا۔

کراچی کے ٹاؤن پولیس آفیسر صدر ثنا اللہ کے مطابق تین جریدوں ضرب مومن، وجود اور فرائیڈے سپیشل کے دفاتر بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔

یہ کارروائی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس حکم کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا حکم دیا تھا۔

ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اس ہفتے سرکاری ٹیلیوژن پر کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کریں گے۔

ماضی میں بھی ملک میں ایسے کئی کریک ڈاؤن کیئے گئے ہیں جو وقتی طور پر تو مؤثر ثابت ہوتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے دوبارہ سرگرم ہو جاتی ہیں۔

پیر کو ایف آئی اے حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث چار میں سے تین افراد گزشتہ برس پاکستان آئے تھے۔

صوبہ سرحد کی پولیس کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کو صوبے میں ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائےگا۔

پنجاب کے شہر لاہور کی پولیس کے سربراہ طارق سلیم نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس نے کچھ ایسے افراد گرفتار کیئے ہیں جن پر شبہ ہے کہ ان کا تعلق لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد سے ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ کتنے افراد کو ابھی تک گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان کے کچھ اخبارات کے مطابق برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کی ایک ٹیم بھی پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ اس مہم میں پکڑے جانے والے افراد سے تفتیش کر رہی ہے مگر ابھی تک ایسا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ لندن بم دھماکوں میں ملوث افراد کا پااکستان میں کسی مذہبی تنظیم سے رابطہ تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد