BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان مدرسوں پر نظر رکھے گا‘
مدرسہ
پاکستان نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ لندن کے ایک حملہ آور نے وہاں مدرسے میں وقت گزارا تھا
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ مدرسوں پر مزید گہری نظر رکھے گا۔ پاکستان کی طرف سے یہ بیان ان اطلاعات کے پس منظر میں آیا ہے کہ لندن کے حملوں میں شامل چار افراد میں سے ایک نے کچھ عرصہ وہاں ایک مدرسے میں گزارا تھا۔

پاکستان میں حکام اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے کہ ایک بمبار نے وہاں ایک ایسی تنظیم کے مدرسے میں وقت گزارا تھا جسے کالعدم قرار دیا جا چکاہے۔

پاکستان میں حکام نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ انہوں نے لندن میں ہونے والے بم حملوں کے سلسلے کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انتہا پسندی کی تبلیغ کرنے والے مدرسوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق لندن کے حملوں میں شامل ایک بمبار بائیس سالہ تنویر شہزاد نے لاہور کے ایک مدرسے میں وقت گزارا تھا۔ مدرسے نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔

آفتاب شیرپاؤ نے کہا حکومتی اہلکار عنقریب صدر جنرل مشرف کے شدت پسند تنظیموں کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد کے لیےلائحہ عمل تیار کرنے کے لیے ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد