’لندن بمبار ہمارے پاس نہیں آیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پنجاب کے صوبائی مشیر برائے مذہبی امور حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ لندن بم دھماکوں کے حوالے سے لاہور سمیت پنجاب بھر کے دینی مدرسوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو رہا ہے۔ لاہور کے ایک دینی مدرسہ جامعہ منظور السلامیہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اس مدرسے کے بارے میں یہ اطلاعات ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظر عام پر آئی ہیں کہ لندن بم دھماکوں کے ایک مبینہ خودکش بمبار نے یہاں سے تربیت حاصل کی تھی۔ لاہور کے چھاؤنی کے علاقے میں قائم اس مدرسہ میں صوبائی مشیر حافظ طاہر محمود اشرفی کے ہمراہ مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالقدیر خاموش بھی موجود تھے۔ صوبائی مشیر حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ لندن بم دھماکوں کے ملزموں کا ابھی تک پنجاب کے مدرسوں سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے اور تمام مدرسے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی مدرسے کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد یہاں سے تمام جہادی اور تربیتی کیمپ بند کر دئیے گئے ہیں۔ بھارت نے حال ہی میں پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ یہاں پر اب بھی تربیتی کیمپ چل رہے ہیں جہاں پر مسلمان نوجوانوں کو متشدد کارروائیوں کی تربیت دی جاتی ہے پاکستان نے سرکاری طور پر اس بیان کی تردید کی ہے۔ جامعہ کے ناظم اسد اللہ فاروقی نے مبینہ خود کش بمبار تنویر شہزاد کی اس ڈائری کا حوالہ دیا جو لندن میں پولیس نے برآمد کی تھی اور کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ لندن میں پولیس کو اس ڈائری سے ان کے مدرسے کا نام اور ٹیلی فون نمبر لکھا ہے۔ اسد اللہ فاروقی نے کہا کہ ’جامعہ منظور ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور کسی کی ڈائری سے ٹیلی فون نمبر مل جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘ ایک اطلاع کے مطابق بعض پاکستانی سیکورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے لندن بم دھماکوں میں پاکستانی نژاد برطانوی تنویر شہزاد کے ملوث ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد اس مدرسے کے ریکارڈ کی چھان بین کی ہے۔ جامعہ کے ناظم اسداللہ فاروقی کاکہنا ہےکہ ان کے ریکارڈ میں کسی تنویر شہزاد کانام نہیں پایاگیا۔ انہوں نے اس بات کا تو اعتراف کیا کہ ان کے ادارے میں غیر ملکی وفود آتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے میں کبھی کسی غیر ملکی طالبعلم کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ کسی خفیہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہے اور سب کے لیے کھلاہے لیکن پریس کانفرنس کے بعد انہوں نے فوٹو گرافروں اور کیمرہ مین کو مدرسے کی تصاویر بنانے سے منع کر دیا۔ ذرائع ابلاغ میں شہزاد تنویر کی تعلیم کے حوالے سے جن دو مدرسوں کا نام لیا گیا ان میں لاہور کا جامعہ منظور مریدکے میں جماعتہ الدعوۃ مرکز شامل ہے۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان پہلے ہی شہزاد تنویر کے مریدکے میں مرکز طیبہ کے مدرسے آنے کی تردید کر چکے ہیں لیکن مریدکے بھی ان دونوں مرکز طیبہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور روزانہ کئی غیرملکی صحافی اور کیمرہ مین اس ادارے کا دورہ کرتے اور پڑوس کے لوگوں سے بات چیت کرتے نظر آتے ہیں۔ جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید پہلے ایک عسکری جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی سربراہ تھے لیکن نائن الیون کے بعد جب پاکستان میں جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دئیے جانے کا سلسلہ شروع ہوا تو لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دئیے جانے سے پہلے حافظ سعید نے اسے چھوڑ کر جماعتہ الدعوۃ کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسے ایک مذہبی دینی جماعت قرار دیا تھا۔ حافظ محمد سعید کا نام ان بیس افراد میں شامل ہے جنہیں چند سال پہلے بھارت نے دہشت گرد قرار دیکر پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں بھارت کے حوالے کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||