زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں جمعرات کی صبح ہونے والے بم حملوں کے بعد اب نئے ہفتے کے آغاز پر شہر میں زندگی معول پر آرہی ہے۔ لندن کے مئیر اور شہر کے پولیس نے لندن والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی معمول کی زندگی پر واپس آجائیں۔ ٹرانسپورٹ پولیس کے ایک اہلکار اینڈی ٹروٹر نے شہریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ کام پر نہ آئے تو لندن میں کاروبار رُک جائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا ’یہ دہشت گردوں کی جیت ہوگی اور ہم انہیں جیتنے نہیں دیں گے‘۔ لندن کے مئیر کین لوِنگسٹن بھی شہر کے زیر زمین ٹرین کے نظام ’انڈرگراؤنڈ‘ کو استعمال کرتے ہوئے کام پر گئے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بحال ہو گیا ہے تاہم انڈرگراؤنڈ کے کئی سٹیشن اب بھی بند ہیں۔ جمعرات کی صبح کو لندن کی ایک مسافر بس اور تین انڈرگراؤنڈ ٹرینوں پر دھماکے ہوئے تھے جس میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اور سات سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پیر تک پولیس نے صرف ایک لاش کی شناخت کی تھی۔ تاہم درجنوں افراد لا پتہ ہیں اور ان میں سے کئی کے خاندان والوں کو خدشہ ہے کہ وہ ان حملوں میں بچ نہیں سکے۔ اس کے باوجود شہر کی بیشتر سڑکیں کھلی رہیں اور اگلے روز مسافر بسیں حسب معمول چل رہی تھیں۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ تفتیش میں مدد کے لیے واقعے کی تمام فوٹو اور ویڈیو ان کے حوالے کر دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے جواب میں لوگوں نے بہت تعاون کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں شہریوں کی تعریف کی۔ دھماکوں کے بعد کئی لوگو نے اپنے موبائل فون پر واقعے کی تصاویر اور ویڈیو بنائی تھی۔ اس کے علاوہ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد ان سے ٹیلی فون کے انسداد دہشت گردی ہیلپ لائن پر رابطہ کر چکے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ انتہائی محتاط رہیں اور اگر انہیں کہیں کوئی مشکوک پارسل یا تھیلا نظر آئے تو اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ لندن حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں جمعرات کو دو منٹ کی مکمل خاموشی پر عمل کیا جائے گا۔ وزیر ثقافت ٹیسا جاول نہ کہا ہے کہ ان کی یاد میں ایک قومی یادگار بھی تعمیر کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||