لندن: ہلاک شدگان کے لیے دعائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں جمعرات کے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے برطانیہ بھر کے گرجا گھروں میں اتوار کو خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ اس کے علاوہ عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کے مذہبی رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ایک دوسرے سے اظہارے یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کی مذمت کی۔ آرچ بشپ آف کنٹبری کی قیادت میں ان مذہبی رہنماوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان یکجہتی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ مشترکہ طور پر تشدد کے ان واقعات کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے امن اور مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا۔ ان دھماکوں کے بعد کم از کم پچیس افراد ابھی تک لا پتہ ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کی لاشیں کنگز کراس سٹیشن کے نیچے ایک سرنگ میں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق ان دھماکوں میں اننچاس افراد ہلاک اور سات سو زخمی ہو گئے تھے۔ کنگز کراس سٹیشن کی سرنگ میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے اور ملبے کوہٹایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء لندن پولیس کے ایک سابق اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ یہ بات تقریباً یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان دھماکوں میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے شہری ہی ملوث تھے۔ لندن کے بشپ نے ہلاک شدگان کے لیے ہونے والی ایک سروس میں کہا کہ یہ وارداتیں خدا اور اعلی انسانی احساسات کے خلاف گناہ ہیں۔ لندن پولیس کے سابق اعلیٰ اہلکار لارڈ سٹیونز نے ان حملوں میں لندن سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق کم از کم تین ہزار کے قریب برطانیہ میں پیدا ہونے افراد نے القاعدہ کے تربیتی کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے کوئی یا ان کے تریبت یافتہ لوگ ان حملوں میں ملوث ہیں۔ وزیر داخلہ چارلس کلارک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ان حملوں میں ملوث افراد کا جلد پتا چلالیا جائے گا۔ اس دوران لندن میں سکیورٹی کو ایک مرتبہ پھر انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے جس کو عام انتخابات کے بعدگھٹا دیا گیا تھا۔ چوکسی کی حالت کو بڑھانےکے بارے میں بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار گارڈن کوریریہ نے کہا ہے کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کو مزید حملوں کا خدشہ ہے۔ گزشتہ شب برمنگھم شہر کے وسطی علاقے سے بیس ہزار کے قریب لوگوں کو دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر نکال لیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||