بچنے والوں نے کیا دیکھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسے وقت میں جب لندن میں دھماکوں کے بعد حالات معمول پر آ رہے ہیں، ان دھماکوں میں بچ جانے والے افراد نے بی بی سی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے اپنے تاثرات بیان کیے۔ آدی اوشنگبوئی، ٹیوسٹاک سکوائر
چھبیس سالہ آدی اوشنگبوئی ٹیوسٹاک سکوائر میں اس بس میں سوار تھے جو دھماکے کا شکار ہونے والی بس کے آگے جا رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے ’ مجھے بس پر سوار ہوئے چھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا۔ اس کے بعد میری بس پر سوار افراد نے شور مچانا اور چیخنا شروع کر دیا۔ ہماری بس رک گئی اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا جبکہ میں دھماکے کا شکار ہونے والی بس کی جانب بڑھا۔ میں نے ایک خاتون کو خون میں لت پت دیکھا جس کے کپڑے پھٹ چکے تھے۔ کچھ اور لوگ اس کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ عورت خوف سے چیخ رہی تھی اور لوگ اسے تسلی دے رہے تھے۔ جب تک میں بس سے دو میٹر فاصلے پر پہنچا تب تک پولیس والوں نے لوگوں کو جائے حادثہ سے دور ہٹانا شروع کر دیا تھا۔ جائے حادثہ پر میں نے ایک جسم کو سڑک پر پڑے دیکھا جو بالکل حرکت نہیں کر رہا تھا۔ اس وقت میں بالکل ٹھیک ہوں تاہم مجھے ابھی تک ان واقعات پر یقین نہیں آ رہا ہے۔ پال ڈیج، کنگز کراس
پال ڈیج جن کی ایک زخمی عورت کو سہارا دیتے ہوئے تصویر ملک کے تمام اخبارات میں شائع ہوئی دھماکے کے وقت کنگز کراس سٹیشن پر موجود تھے۔ پال جو کہ ایک سابقہ فائر فائٹر ہیں بذریعہ ٹیوب ہیمر سمتھ جا رہے تھے کہ ان کی ٹرین کو ایجوئیر سٹیشن پر روک دیا گیا اور انہوں نے بقیہ سفر پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایجوئیر روڈ پر واقع مارکس اینڈ سپنسر میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ابتدائی طبّی امداد فراہم کی جارہی تھی۔ 28 سالہ پال جنہیں ابتدائی طبی امداد کی سدھ بدھ تھی زخمیوں کے مدد کے لیے میدان میں کود پڑے۔ اسی اثنا میں ایک اور سکیورٹی الرٹ کے وجہ سے انہیں زخمیوں کو سڑک کے پار منتقل کرنا پڑا اور یہی وہ موقع تھا جب یہ تصویر کھینچی گئی۔ پال ڈیج کا کہنا ہے کہ وہ اس زخمی عورت کے بارے میں اس کے نام سے زیادہ کچھ نہیں جانتے اور اس کا نام ڈوینا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دل میں زخمیوں کی مدد کا خیال قدرتی طور پر آیا اور انہیں پسند نہیں کہ انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جائے۔ پال نے اپنے دفتر کے لیے روانہ ہونے سے قبل پانچ ایسے افراد کی مدد کی جو کہ جلے ہوئے تھے۔ پال کا کہنا تھا کہ جب وہ روانہ ہوئے تو جائے حادثہ پر کرنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔ پال نے کہا کہ ’ میں ان دھماکوں کے ذمہ دار افراد سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ لندن کو کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ انہوں نے کہا ’ جیسے ہی ٹیوب دوبارہ چلنی شروع ہوئیں ہم واپس اس پر سفر کرنا شروع کر دیں گے۔ مارک مارگولس، کنگز کراس
مارک مارگولس جمعہ کی صبح ایک مرتبہ پھر کنگز کراس سٹیشن پہنچے جہاں جمعرات کو ان کی ٹرین دھماکے کا شکار ہوئی تھی۔ مارک اس ٹرین کے ذریعے فنز بری پارک سے فلہم جا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ ہم کنگز کراس پر رکے۔ لوگ سوار ہوئےاور ٹرین چل پڑی۔ پھر ایک دھماکے کی آواز آئی اور بجلی بند ہوگئی۔ ہر طرف شیشے اڑنے لگے اور لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا۔ اس وقت ہمارا خیال تھا کہ شاید ٹرین پٹڑی سے اتر گئی ہے۔‘ مارک کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں خیال آیا کہ اگر آگ لگ گئی تو وہ کیسے باہر نکلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ڈرائیور نے دروازے تو کھول دیے تاہم لوگوں کے شور کی بنا پر اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ مارک کا کہنا تھا کہ’ میں نے پر سکون ہو کر اپنا جائزہ لیا تو مجھے اپنا چہرہ خون آلود محسوس ہوا۔ میں نے باہر نکلتے ہوئے اپنے آگے موجود لڑکے کو تھام لیا۔ دوبارہ کنگز کراس آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ میں دوبارہ کبھی ٹیوب پر سفر نہیں کروں گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||