لندن بم حملے شہ سرخیوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ بھر میں اخبارات نے جمعرات کو لندن میں ہونے والے بم حملوں کو شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے اخبار ڈیلی مِرر نے پولیس، طِبی عملے، فائرفائٹراور دیگر ایمرجنسی سروسز کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے جذبے اور حوصلے کے سامنے دہشت گرد اور بھی زیادہ قابل نفریت دکھائی دیئے ہیں۔ اخبار کے مطابق ماضی میں بھی برطانیہ نے ایسے حملوں کو ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور آج بھی یہ دہشت گردوں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے شکست فاش دے گا۔ لندن سے ہی شائع ہونے والے اخبار فنانشل ٹائمز نے مشرق وسطیٰ کے مسئلے سے نپٹے کے لیے عالمی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ’توسیع شدہ جی ایٹ کو ایک سربراہ اجلاس مشرق وسطیٰ کے تنازعے پر غور کرنے کے لیے وقف کرنا چاہیے۔‘ لندن سے شائع ہونے والے اخبار دی گارڈین کے مطابق دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ان اسباب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جہاں سے دہشت گرد تقویت حاصل کرتے ہیں۔ لندن سے ہی شائع ہونے والے اخبار دی ٹائمز کے مطابق ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ لندن میں ہونے والے ہلاکتوں اور عراق پر حملے کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ ’لیکن ایسی سوچ غلط ہے۔‘ اخبار کے خیال میں لندن پر اس لیے حملے کیے گئے کیونکہ شدت پسند جمہوری معاشرے کے خلاف ’جہاد‘ کرنا چاہتے ہیں۔ پیرس سے شائع ہونے والے اخبار لفگارو اور لبریشن نے لندن پر حملوں کے خبر کو شہ شرخیوں میں جگہ دی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||