دھماکے: سلامتی کونسل کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کی صبح لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ یہ متفقہ قرار دادِ مذمت سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں منظور کی گئی جو خصوصی طور پر لندن میں ہونے والے بم حملوں پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ قرار داد میں تمام ملکوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان بم دھماکوں کے ذمہ دار عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں تعاون کریں۔ اس سے پہلے بھی کئی عالمی رہنماؤں نے جمعرات کی صبح لندن میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی۔ برطانیہ کی ملکہ ایلیزبتھ نے کہا ہے کہ انہیں دھماکوں کی خبر سےشدید دہچکا پہنچا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ان حملوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر صورت جاری رہنی چاہیے۔ سکاٹ لینڈ کے شہر گلین ایگلز میں جاری جی ایٹ سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نفرت کے نظریے پر عمل کرتے ہیں لیکن آخر کار ان پر قابو پا لیا جائے گا۔ جرمنی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈر نے لندن میں ہونے والے حملوں کوایک سازش قرار دیا جبکہ فرانس کے صدرشیراک نے برطانیہ کے عوام کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ دھماکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے روس کے صدر ولادامیر پوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام ممالک کو متحدد ہونا چاہیے۔ پاکستان نے بھی دھماکوں کی مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ان دھماکوں سے متاثر ہونے والے افراد سے دلی ہمدردی رکھتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||