دھماکے بربریت ہیں: بلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے لندن میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے واقعات قرار دیا ہے۔ ٹونی بلیئر سکاٹ لینڈ میں جاری ’جی ایٹ‘ کے سربراہ اجلاس کو ادھورا چھوڑ کر لندن پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ان دھماکوں کے سلسلے میں متعلقہ حکام سے تازہ ترین صورت حال پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وارداتیں واضع طور پر جی ایٹ ممالک کے سربراہ اجلاس میں خلل ڈالنے کے لیے کی گئی ہیں لیکن دہشت گردوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنی سماجی اقدار کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد معصوم لوگوں کی زندگیاں لینے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ہم اپنی اقدار کے دفاع کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں۔ اپنے اس انفرادی بیان کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد برطانوی وزیرا اعظم جی ایٹ اجلاس کے تمام شرکاء کے ساتھ ایک مرتبہ پھر صحافیوں کے سامنے آئے اور کہا کہ دہشت گرد ان دھماکوں سے ہمارے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر جی ایٹ تنظیم کے دیگر سات ممبر ممالک کے سربراہان کے علاوہ اجلاس میں شریک پانچ مبصر ممالک کے رہنما بھی موجود تھے۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ جی ایٹ کا اجلاس جاری رہے گا اور وہ لندن میں دو گھنٹے رکنے کے بعد واپس گلین ایگلز (سکاٹ لینڈ) چلے جائیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دھماکوں سے ہمارے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ہم ان معاملات پر بات چیت کرتے رہیں گے جن کے لیے یہ اجلاس ہو رہا ہے یعنی غربت کا خاتمہ اور لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانا۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ دہشت گردوں کی کوشش ہے کہ وہ ہمیں کمزور کر دیں لیکن ہم دہشت گردوں سے دبنے والے نہیں بلکہ ہم اپنے معاشروں کے زریں اصولوں کے دفاع میں ڈٹے رہیں گے اور اس جنگ میں ہارصرف دہشت گردوں کی ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||