عینی شاہدوں نے کیا دیکھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں ہونے والے سات بم دھماکوں میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ان دھماکہ کی روداد عینی شاہدوں کی زبانی۔ جیرالڈن فورمون ، ٹیوزسٹاک سکوائر: میں بس سے دو سو گز کے فاصلے پر تھا جب ایک بڑا بم دھماکہ ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ڈبل ڈیکر بس میں دھماکہ ہوا ہے۔ لوگ چیختے ہوئے میری طرف بھاگ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ کم از کم پانچ لوگوں نے ڈبل ڈیکر بس کی اوپر والی چھت سے چھلانگیں لگا دیں۔ آدھی بس اڑا چکی تھی ۔ امریکی سیاح ، رسل سکوائر۔ وہ بس جس میں بم دھماکہ ہوا وہ ہمارے پاس سے ہی گزری ۔اچانک دھماکے کی آواز سن کر جب ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بس کا اوپر والا حصہ اڑ چکا تھا۔ یہ اتنا ہولناک منظر تھا ۔ جو لوگوں کو لمحے بھر پہلے زندہ دیکھا وہ شاید مر گئے ہوں گے۔ ڈیوڈ جونز ، ٹیوسٹاک سکوائر۔ اچانک مجھے ایک دھکا لگا، بس کے اوپر لوگوں نے کہا کہ دھماکہ ہوا ہے ۔ میں نے لوگوں کو کہا گھبراؤ نہیں اور اس طرح لوگ بس سے اتر گئے۔ میں نے وہاں کوئی آگ نہیں دیکھی تھی لیکن دھماکہ کی بدبو محسوس کی جا رہی تھی۔ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے تھے۔میں نے کوئی ٹوٹے ہوئے شیشے نہیں دیکھے لیکن بس کی چھت اڑ گیا تھی۔ میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ برطانیہ میں جی ایٹ ممالک کی سربراہ کانفرنس اور اولمپک کا لندن میں ہونا کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگا اور وہ نہیں چاہتے کہ لندن میں خوشیاں منائی جائیں۔
ٹیوز سٹاک سکوائر سے ایک گمنام عینی شاہد۔ میں پیدل چل رہا تھا، لوگوں کا ایک ہجوم بس کے پاس تھا۔ اچانک میں گر گیا اور ہر طرف سے ٹوٹے ہوئے شیشے ہی نظر آرہے تھے۔میرے اوپر ایک شخص گرا اور ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ میں لوگوں کے پاؤں کے نیچے کچلا جاؤں گا۔ انڈر گروانڈ سٹیشن کو بند کیے جانے کے بعد بسوں میں رش ہو گیا تھا۔ یہ بس بھی لوگ سے مکمل طور پر بھر ی ہوئی تھی اور میرے خیال کئی لوگ مر گئے ہوں گے۔ اینڈی ایبرناتھی، لندن یہ پکیڈلی لائن پر چلنے والی ٹرین’ کنگ کراس‘ اور’ رسل سکوائر‘ کے درمیان تھی جب ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا اور ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ کوئی آگ نہیں تھی لیکن ٹرین دھوائیں سے بھر گئی۔ لوگ شدید زخمی ہوئے۔ کئی کے سر میں چوٹیں آئیں ہیں میرے پاس ایک کھڑے شخص نے کہا کہ مارے گئے۔ مجھے امید ہے وہ بچ گیا ہو گا۔ کرسٹینا لورینس، کنگ کراس سرنگ میں دھماکہ کی آواز آئی اور ٹرین اچانک رک گئی ۔ ٹرین میں اتنا دھواں آگیا کہ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ ٹرین سرنگ میں تھی اس سے وہاں سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا۔ سرنگ میں لائٹیں بھی بند ہو گئیں۔ یہ بہت ہی ڈروانا منظر تھا۔ مجھے ایسے لگا کہ ہم ٹرین سے نہیں اتر پائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||