BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 July, 2005, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عینی شاہدوں نے کیا دیکھا
News image
لندن میں ہونے والے سات بم دھماکوں میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔ان دھماکہ کی روداد عینی شاہدوں کی زبانی۔

جیرالڈن فورمون ، ٹیوزسٹاک سکوائر: میں بس سے دو سو گز کے فاصلے پر تھا جب ایک بڑا بم دھماکہ ہوا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ڈبل ڈیکر بس میں دھماکہ ہوا ہے۔ لوگ چیختے ہوئے میری طرف بھاگ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ کم از کم پانچ لوگوں نے ڈبل ڈیکر بس کی اوپر والی چھت سے چھلانگیں لگا دیں۔ آدھی بس اڑا چکی تھی ۔

امریکی سیاح ، رسل سکوائر۔

وہ بس جس میں بم دھماکہ ہوا وہ ہمارے پاس سے ہی گزری ۔اچانک دھماکے کی آواز سن کر جب ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بس کا اوپر والا حصہ اڑ چکا تھا۔
ہم نے کوئی لاشیں نہیں دیکھی ہیں۔ انہوں نے ہمیں فوراً اس سڑک سے فوراً ہٹا دیا اور کہا کہ دوسرا دھماکہ ہو سکتا ہے۔

یہ اتنا ہولناک منظر تھا ۔ جو لوگوں کو لمحے بھر پہلے زندہ دیکھا وہ شاید مر گئے ہوں گے۔

ڈیوڈ جونز ، ٹیوسٹاک سکوائر۔

اچانک مجھے ایک دھکا لگا، بس کے اوپر لوگوں نے کہا کہ دھماکہ ہوا ہے ۔ میں نے لوگوں کو کہا گھبراؤ نہیں اور اس طرح لوگ بس سے اتر گئے۔

میں نے وہاں کوئی آگ نہیں دیکھی تھی لیکن دھماکہ کی بدبو محسوس کی جا رہی تھی۔ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے تھے۔میں نے کوئی ٹوٹے ہوئے شیشے نہیں دیکھے لیکن بس کی چھت اڑ گیا تھی۔

میرا پہلا رد عمل یہ تھا کہ برطانیہ میں جی ایٹ ممالک کی سربراہ کانفرنس اور اولمپک کا لندن میں ہونا کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگا اور وہ نہیں چاہتے کہ لندن میں خوشیاں منائی جائیں۔

News image

ٹیوز سٹاک سکوائر سے ایک گمنام عینی شاہد۔

میں پیدل چل رہا تھا، لوگوں کا ایک ہجوم بس کے پاس تھا۔ اچانک میں گر گیا اور ہر طرف سے ٹوٹے ہوئے شیشے ہی نظر آرہے تھے۔میرے اوپر ایک شخص گرا اور ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ میں لوگوں کے پاؤں کے نیچے کچلا جاؤں گا۔
میں اٹھا اور ہر طرف لوگ بھاگ رہے تھے اور ہر طرف ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے پڑے تھے۔ ہم ایک عمارت میں گھسے۔ سکیورٹی گارڈ نے پہلے کہا کہ اندر داخل ہونے کے لیے کہا لیکن پھر بعد میں کہا یہاں سے چلے جاؤ ۔ بہت ڈر لگ رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ بس کا پچھلا حصہ ہوا میں آڑ رہا تھا اور ایسا بم دھماکہ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ بس نمبر 205 تھی۔

انڈر گروانڈ سٹیشن کو بند کیے جانے کے بعد بسوں میں رش ہو گیا تھا۔ یہ بس بھی لوگ سے مکمل طور پر بھر ی ہوئی تھی اور میرے خیال کئی لوگ مر گئے ہوں گے۔

اینڈی ایبرناتھی، لندن

یہ پکیڈلی لائن پر چلنے والی ٹرین’ کنگ کراس‘ اور’ رسل سکوائر‘ کے درمیان تھی جب ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا اور ٹرین پٹری سے اتر گئی۔ کوئی آگ نہیں تھی لیکن ٹرین دھوائیں سے بھر گئی۔

لوگ شدید زخمی ہوئے۔ کئی کے سر میں چوٹیں آئیں ہیں میرے پاس ایک کھڑے شخص نے کہا کہ مارے گئے۔ مجھے امید ہے وہ بچ گیا ہو گا۔

کرسٹینا لورینس، کنگ کراس

سرنگ میں دھماکہ کی آواز آئی اور ٹرین اچانک رک گئی ۔ ٹرین میں اتنا دھواں آگیا کہ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ ٹرین سرنگ میں تھی اس سے وہاں سے کوئی نکل نہیں سکتا تھا۔

سرنگ میں لائٹیں بھی بند ہو گئیں۔ یہ بہت ہی ڈروانا منظر تھا۔ مجھے ایسے لگا کہ ہم ٹرین سے نہیں اتر پائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد