کاشف قمر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 |  نیوٹرل ایمپائرنگ سے ٹیسٹ کرکٹ کی ساکھ بہتر ہوئی ہے |
انگلستان کے خلاف ہوم سیریز کے ایک روزہ کرکٹ میچوں میں پہلی بار دونوں نیوٹرل ایمپائروں کے ذریعے پاکستان ایک نئی تاریخ رقم کرنے والا ہے۔ اب تک ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں ایک فیلڈ ایمپائر اور تھرڈ ایمپائر کا تقرر میزبان ملک کرتا تھا۔ تاہم ایک روزہ میچوں میں بڑھتے ہوئے متنازع فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کافی عرصے سے ٹیسٹ کی طرز پر انٹرنیشنل کرکٹ کانفرنس یا آئی سی سی کی جانب سے دونوں نیوٹرل فیلڈ ایمپائروں کے تقرر کی کوشش کرتا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کے مطابق گو آئی سی سی نے پاکستان کی یہ تجویز ایک بار پھر مسترد کردی ہے تاہم ساتھ ہی رکن ملکوں کو انفرادی طور پر ایسا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ شہریار خان کے بقول اب پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ انگلستان کے خلاف پہلی بار اور پھر اس کے بعد ہندوستان کے خلاف سیریز میں بھی دونوں فیلڈ ایمپائر نیوٹرل ہوں گے جن کا تقرر آئی سی سی کرے گی۔ لیکن آئی سی سی کے فیصلے کی رو سے کسی بھی رکن ملک کو ایسا کرنے سے پہلے دورے پر آنے والے مہمان ملک سے اجازت لینی ہوگی۔ شہریار خان کے مطابق وہ اس بارے میں انگلستان اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے رابطہ کررہے ہیں جس کا نتیجہ شہریار خان کے بقول امید ہے کہ مثبت ہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان نے ٹیسٹ میں نیوٹرل ایمپائروں کی ریت ڈالی اور پھر بعد میں سب نے اس کو اپنا لیا، اسی طرح پاکستان ایک بار پھر ایک روزہ کرکٹ سے تنازعات کے خاتمے کے لیے ایک جرات مندانہ فیصلہ کررہا ہے جس کی تقلید پاکستان کو امید ہے کہ باقی ملک بھی کریں گے۔ شہریار خان کا تھا کہ غلطی کرنا انسانی فطرت ہے لیکن جب غلطی میزبان ملک کے ایمپائر سے ہوتی ہے تو نہ صرف میدان میں مخالف ٹیم بلکہ میدان سے باہر شائقین میں بھی ردعمل اور جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس چیز کا سب سے بڑا مظہر پاک بھارت کرکٹ سیریز ہوتی ہے۔ شہریار خان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی افسوس ناک صورتحال کا خاتمہ صرف نیوٹرل ایمپائروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیوٹرل ایمپائروں کی تقرری کے لیے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ چونکہ پاکستان اور انگلستان کی سیریز میں ابھی اس سے زیادہ وقت ہے اس لیے بقول شہریار خان آئی سی سی نیوٹرل ایمپائروں کا تقرر بروقت کرسکے گی۔ |