شیپرڈ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے ایمپائر ڈیوڈ شیپرڈ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمیئکا میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنے کریئر کے آخری میچ کی ایمپائرنگ کر رہے ہیں۔ وہ اس کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ دوسرا ٹیسٹ میچ شروع ہونے سے پہلے انہیں اور جمیئکا کے باسی ایک اور ایمپائر سٹیو بکنر کو اعزازی شیلڈ دی گئی تھیں۔ بھاری بھرکم ڈیوڈ شیپرڈ ایمپائرنگ کے اپنے منفرد انداز سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ کبھی ایک پاؤں پر اچھلنا اور کبھی کھلاڑیوں کے ساتھ مذاق ڈیوڈ شیپرڈ کا انداز ہے۔ ڈیوڈ شیفرڈ 27 دسمبر 1940 کو ڈیون میں پیدا ہوئے تھے اور اس سال وہ پینسٹھ سال کے ہو جائیں گے۔ انہوں نے اپنا پہلا میچ 1985 میں ایمپائر ڈکی برڈ کے ساتھ بطور ایمپائر کروایا تھا جو انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان اولڈ ٹریفرڈ کے میدان میں کھیلا گیا تھا۔ شیپرڈ نے ابھی تک اپنے پورے کیریئر میں بانوے ٹیسٹ اور 168 ون ڈی انٹرنیشنل کروائے ہیں۔ وہ اپنا آخری ایک روزہ میچ جولائی کو اوول کی گراؤنڈ میں کروائیں گے۔ انہیں کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کے سلسلے میں 1983 میں ایم بی ای کا اعلیٰ برطانوی اعزاز دیا گیا تھا۔ انیس سو چوراسی میں اپنے ہم وطن ایمپائر ہیرلڈ ’ڈکی برڈ‘ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے شیپرڈ انگلینڈ اور کرکٹ کی شناخت بن گئے تھے۔ شیفرڈ کی ایمپائرنگ پر بھی بہت نکتہ چینی ہوتی رہی ہے اور کئی مرتبہ ان کے فیصلے ٹی وی پر ریکارڈنگ دیکھنے سے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل یہ کہتے ہوئے اس کا اعتراف کیا تھا کہ ہر ایمپائر سے غلطیاں ہوتی ہیں اور مجھ سے بھی ہوئیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||