تیسرے دن کا کھیل: پاکستان 223/4 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمیئکا کے شہر کنگسٹن کے سبینا پارک گراؤنڈ میں پہلی اننگز میں پاکستان کے سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے کولی کولیمور دوسری اننگز میں بھی پاکستان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوئے اور صرف نو اووروں بتیس رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ اور جب کپتان انضمام الحق کھیلنے کے لیے آئے تو کولیمور کی پہلی ہی گیند پر ان کا ایک آسان کیچ وکٹ کیپر براؤن نے چھوڑ دیا۔ کولیمور اس میچ میں اب تک دس وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اس وقت انضمام الحق 64 پر اور ان کے ساتھ شاہد آفریدی 16 رنز پر کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کا کل سکور 223 ہے اور اس کے چھے وکٹ ابھی باقی ہیں۔ اس طرح انضمام پر اب بھاری ذمہ داری ہے کہ کل وہ ایک یادگار اننگز کھیلیں۔ کیونکہ ان کی لمبی اننگز ہی پاکستان کو کھیل میں واپس لا سکتی ہے۔ کولیمور کے علاوہ آج کی واحد وکٹ کرس گیل کے ہاتھ آئی جنہوں نے یونس خان کو اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کر دیا۔ یونس نے 43 رنز بنائے اور صرف سات رنز سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔ پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی یاسر حمید تھے جو 26 رنز بنانے کے بعد کولیمور کا پہلا شکار بنے۔ ان کا کیچ سمتھ نے لیا۔ اس وقت پاکستان کا سکور 66 تھا۔ پاکستان کے دوسرے آؤٹ ہونے کھلاڑی شعیب ملک تھے جو اپنا سب سے زیادہ انفرادی سکور 66 بنا کر کولیمور کی ہی گیند پر براؤن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے ایک گیند کے بعد ہی عاصم کمال کولیمور کی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 404 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی اور اس طرح اسے پہلی اننگز میں پاکستان پر 30 رنز کی سبقت حاصل کر لی تھی۔ تیسرے دن ویسٹ انڈیز کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی برائن لارا تھے جو ایک شاندار اننگز کے بعد 153 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ان کا وکٹ شبیر احمد نے حاصل کیا۔ شبیر احمد جو کہ بولنگ ایکشن پر اعتراض کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہیں میچ کے دوسرے دن تو کوئی خاص گیند نہیں کر سکے تھے لیکن تیسرے دن نئے بال کو لینے کے بعد انہوں نے پاکستان کی اننگز کا سب سے خطرناک اوور کیا اور پہلے لارا اور اس کے اگلے ہی گیند پر کورٹنی براؤن کو آؤٹ کر دیا۔ وہ اپنی ہیٹ ٹرک تو مکمل نہ کر سکے لیکن پاکستان کو کھیل میں واپس لے آئے۔ لنچ سے کچھ دیر پہلے انہوں نے ڈیرن پاول کو بھی بالکل اپنے پہلے شکاروں کی طرح ہی آؤٹ کر دیا۔ ان کا کیچ بھی کامران اکمل نے لیا۔ شبیر کے ساتھ جب شاہد آفریدی کو گیند دیا گیا تو انہوں نے آخری تینوں کھلاڑیوں ٹینو بیسٹ، ریون کنگ اور ویول ہائنڈز کو بالترتیب 385، 393، اور 404 کے سکور پر آؤٹ کر دیا۔ ویول ہائنڈز نے 63، ٹینو بیسٹ نے 18 رنز بنائے اور کنگ صفر پر آؤٹ ہو گئے جبکہ کولیمور 2 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔ پاکستان کے اوپننگ کے کرائسس کے بعد بولنگ اٹیک بھی مشکلات کا شکار دکھائی دیتا تھا۔ دانش کنیریا کو میچ کے تیسرے دن کے پہلے گھنٹے کے سیشن میں ہی ایمپائیر نے تین مرتبہ وارننگ دینے کے بعد بولنگ کرنے سے منع کر دیا۔ وہ گیند کرنے کے بعد وکٹ پر آ رہے تھے۔ رانا نوید کل پاول کی گیند لگنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے انگوٹھے پر چار ٹانکے لگے ہیں۔ انہوں نےتیسرے روز گیند نہیں کروائی۔ پاکستان نے نیا بال میچ کے بانوے اوور میں لیا تھا جب رزاق گیند کر رہے تھے۔ اسی اوور میں شبیر کے لارا کا ایک کیچ چھوڑ دیا۔ لیکن اگلے ہی اوور میں انہوں نے خود لارا کو کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کر دیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن برائن لارا نے نہایت خوبصورت اور تیز اننگز کھیل کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی تیسویں سنچری مکمل کی اور بریڈمین کا ریکارڈ توڑا تھا۔ اپنی اننگز میں لارا نے کل بیس چوکے اور دو چھکے لگائے۔ انہوں نے کسی بھی پاکستانی بولر کو اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیا اور ہر طرف عمدہ شاٹس لگائے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق (کپتان)، یاسر حمید، شعیب ملک، شاہد آفریدی، یونس خان، عاصم کمال، عبدالرزاق، کامران اکمل، نوید الحسن رانا، شبیر احمد، اور دانش کنیریا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: کرسٹوفر گیل، ڈیون سمتھ، رام ناریش ساروان، برائن لارا، شیو نارائن چندرپال، ویول ہائنڈز، کورٹنی براؤن، ڈیرن پاول، ٹینو بیسٹ، ریون کنگ، کوری کولیمور شامل ہیں۔ جبکہ آئین بریڈ شا اور ڈوین براوو بارہویں اور تیرہیوں کھلاڑی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||