BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 May, 2005, 21:10 GMT 02:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کرکٹ کھیلنی ہے اوراچھی کھیلنی ہے‘

یونس خان
پاکستان کے کپتان یونس خان نے باربیڈوس میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں پہلے ٹیسٹ میچ میں 276 رنز کی شکست کی وجہ ٹیم میں تجربہ کار بیٹسمینوں کی غیر موجودگی بتایا ہے۔

دوسری اننگز میں پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 573 رنز چاہیے تھے لیکن پاکستان کی پوری ٹیم 296 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح پاکستان پہلا ٹیسٹ میچ 276 رنز سے ہار گیا۔

میچ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کپتان یونس خان نے کہا کہ ’اصل میں ہم اپنے اہم کھلاڑیوں کے بغیر کھیل رہے تھے اور اگر یہ ٹیم آپ کسی کو بھی دے دیتے تو میرے خیال میں یہ ہی نتیجہ ہوتا۔ جس میچ میں شعیب ملک نہیں ہو گا، یوسف یوحنا نہیں ہو گا انضمام نہیں ہو گا تو فرق تو پڑے گا ہی۔ اسی طرح آپ ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں لارا کو نکال دیں، چندرپال کو نکال دیں اور گیل کو نکال دیں تو فرق تو پڑے گا۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا‘۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں ہم اس سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ’کرکٹ تو کھیلنی ہے اور اچھی کھیلنی ہے۔ انڈیا میں بھی ہم نے یہی کیا تھا۔ پہلا ٹیسٹ ہارے تھے دو ون ڈے ہارے تھے اور اس کے بعد فائٹ بیک کیا تھا۔ ہم اسی طرح کھیلنے کی کوشش کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ون ڈے سیریز تو جیتا ہوا ہے اور اس سیریز سے لڑکوں کو تجربہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئے لڑکوں کے لیے اچھا موقع ہے کیونکہ انہیں سینیئر کھلاڑیوں کے بغیر کھیلنے کا موقعہ ملا ہے ’اس لیے میرے خیال میں یہ ان کے لیے اچھا تجربہ ہے اور وہ آگے اچھا کھیلیں گے‘۔

ٹیم میں کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کے بارے میں انہوں نے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے متعلق اگر کچھ پوچھنا ہے تو کمیٹی سے پوچھیں یا ٹیم مینجمنٹ میں سے پوچھیں۔

آفریدی کی اننگز کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میچ میں تین اچھی اننگز کھیلی گئی ہیں۔ ایک لارا کی، دونوں اننگز میں چندرپال کی اور آخر میں پاکستان کی دوسری اننگز میں آفریدی کی۔ ’ہم میچ ہارے ضرور لیکن ہم نے آخر تک فائٹ بیک کیا۔ اگر ہم نے پہلی اننگز میں ڈھائی سو سے زیادہ رنز بنائے ہوتے تو میرے خیال میں میچ کا نتیجہ مختلف بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن وہ ہی ہوا کہ پہلی اننگز میں ہم نے زیادہ رنز نہیں بنائے اس لیے ہم کو بڑا ٹارگٹ ملا‘۔

کنیریا کی بولنگ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹھیک بولنگ کی اور پہلی اننگز میں لارا کو آؤٹ کیا۔ لیکن ان کے سامنے زیادہ تر لیفٹ ہینڈرز آئے تھے اور ظاہری بات ہے کہ لیگ سپنر کو لیفٹ ہینڈرز کو اچھا کھیلتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بولنگ اتنی بری نہیں بلکہ ہم بولنگ اچھی کی ہے۔ ’ہماری طرف سے آفریدی اور دانش نے پورے میچ میں پانچ پانچ آؤٹ کیے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیم پہلی اننگز میں ڈیڑھ سو رنز سے آؤٹ ہو جائے اور اس کے خلاف پہلی اننگز میں دو سو رنز کی لیڈ بن جائے تو دوسری ٹیم کے لیے میچ جیتنے میں کافی آسانی رہتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اگر ہم نے پہلی اننگز میں ڈھائی سو کے قریب رنز بنائے ہوتے تو میرے خیال اس وقت حالات مختلف ہوتے‘۔

آفریدی کو پہلی اننگز میں اوپن کروانے اور دوسری اننگز میں نہ کروانے کے فیصلے کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم کا فیصلہ تھا اور میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد