’سیریز ورلڈ کپ کی تیاری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہریار خان کہتے ہیں کہ اس سیریز کا فائدہ یہ ہے کہ ہم ورلڈ کپ 2007 کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں گے، وکٹ اور یہاں کا ماحول سمجھ لیں اور جب یہاں کھیلنے آئیں تو ان کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ کے لیے کافی تیاری کر رہا ہے، سٹیڈیمز کو گرا کر نئے سٹیڈیم بنائے جا رہے ہیں لیکن وکٹس یہ ہی رہیں گی۔ ’میرے خیال میں ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہو گی‘۔ شہریار کہتے ہیں کہ ہماری ٹیم کے اگرچہ کھلاڑی نئے ہیں لیکن ان میں ٹیم سپرٹ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا ’میں ابھی ویسٹ انڈیز کے گریٹ کھلاڑی ایورٹن ویکس سے بات کر رہا تھا اور ان کا بھی کہنا تھا کہ کرکٹ میں ٹیم سپرٹ کو بڑا ’انڈر ایسٹیمیٹ‘ کیا جاتا ہے جو کہ کافی غلط بات ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ بڑے پلیئرز کے نہ کھیلنے کے باوجود لڑکے سپرٹ سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے وہ وقت یاد ہے جب ورلڈ کپ کے دوران اکیلے انضمام ہی ذمہ دار بیٹسمین تھے اور ان پر اتنا بوجھ آ گیا تھا کہ وہ ڈبل فگر میں ہی نہیں آئے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ انضمام تم پر سارا دارومدار ہے اور تم سکور نہیں کر رہے تو انہوں نے کہا کہ میں اکیلا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ پوری ٹیم اور ملک کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے۔ اب یہ ہے ان لڑکوں کو بھی ذمہ دار ہونا ہے۔ بعض دفعہ بڑے کھلاڑی نہیں کھیل پائیں گے۔ انہیں ہی ذمہ داری سے کھیلنا ہو گا‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان بولنگ کے شعبے میں ذرا کمزور نہیں ہے کرکٹ بورڈ کے چیف نے کہا کہ ’اس وقت ہمارے دو فاسٹ بولر نہیں کھیل رہے ہیں۔ ایک تو شعیب اور دوسرے سمیع تو ان کے آنے سے یہ خلا پورا ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو بتاتا چلوں کہ ہماری اے ٹیم ابھی سری لنکا، زمبابوے اور نمبیا کھیل کر آئی ہے۔ تینوں جگہ وائٹ واش کر کے آئی ہے اور تینوں جگہ بہت اچھی فاسٹ بولنگ کی گئی ہے اور نئے فاسٹ بولر نکل رہے ہیں۔ دوسرا شعیب اور سمیع آ جائیں گے تو سپیشلسٹ بولروں کا خلا بھی پورا ہو جائے گا‘۔ ویسٹ انڈیز میں ورلڈ کپ 2007 کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز اس وقت تک تمام سہولتیں مہیا کر لے گا۔ ’لیکن اصل بات کرکٹ کی روایت کی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے پاس کرکٹ کی عظیم روایت ہے۔ جو بھی کرکٹر یہاں آئیں گے انہیں یہ ضرور محسوس ہو گا کہ ہم بھی کرکٹ کی ان عظیم روایات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اب یہ ضرور ہے کہ ان کے پاس کلکتہ جیسے سٹیڈیم نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے سٹیڈیم ہیں۔ اور سب سے بڑی مشکل جو کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو ہو گی وہ ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے تک جانے کی ہو گی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||