رمیزکا استعفی، شہریار کی جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رمیز راجہ بھی بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ سے رخصت ہوئے گوکہ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو کے عہدے سے استعفے کی وجہ کمنٹری کی بے پناہ مصروفیات بتائی ہے لیکن مبصرین اسے چیئرمین شہریارخان کے ساتھ جاری سرد جنگ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ رمیز راجہ اپنے بڑے بھائی وسیم راجہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے اور 57 ٹیسٹ اور 198 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کے کریئر کا نقطۂ عروج ورلڈ کپ 1992 تھا جس کی فاتح ٹیم میں وہ شامل تھے۔ اس ٹیم کےکپتان عمران خان کا رمیزراجہ کے کریئر پر گہرا اثر رہا۔ رمیزراجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے لیکن مختلف عوامل کی وجہ سے وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکے۔ کھلاڑی کی حیثیت سے کریئر ختم ہونے کے بعد رمیزراجہ نے کرکٹ سے ناطہ کمنٹیٹر کے طور پر برقرار رکھا اور انگریزی میں مہارت اور کرکٹ سے گہری نظر کے سبب وہ مختصر سے عرصے میں عصرحاضر کے چند اچھے کمنٹیٹرز میں شمار کئے جانے لگے۔ رمیزراجہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے کسی عہدے پر پہلی مرتبہ اس وقت فائز ہوئے جب مجیب الرحمن نے انہیں چیف سلیکٹر مقرر کردیا۔ ڈاکٹرظفرالطاف کے مختصر دور میں کرکٹ بورڈ سے دور رہنے کے بعد لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیاء نے انہیں ایڈوائزری کونسل میں شامل کرلیا۔ رمیز راجہ توقیرضیاء کے سب سے قابل اعتماد ساتھی کے طور پر سامنے آئے۔ ملکی کرکٹ کے تمام فیصلے کرتے وقت جنرل صاحب ’ریمبو‘ کی رائے کو غیرمعمولی اہمیت دیتے تھے۔ ساتھی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ توقیرضیاء بھی رمیز راجہ کو ’ریمبو‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ جب توقیرضیاء نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے رخصت لی تو عام خیال یہی تھا کہ رمیزراجہ بھی نئے سیٹ اپ میں کام کرنے کے بجائے کرکٹ بورڈ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے، حالانکہ توقیرضیاء نے اپنے جانشین کے طور پر رمیز راجہ کا نام تجویز کیا تھا۔ شہریارخان کے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد اختیارات کی تقسیم اور دیگرمعاملات پر رمیزراجہ اور ان کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ سرعام شہریارخان اس کی تردید کرتے رہے لیکن ان کے وقتاً فوقتاً ایسے بیانات شہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے رہے جن سے حقائق اس کے برعکس معلوم ہوئے۔ رمیز راجہ کا چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے ساتھ کمنٹری کرنا تنقید کی زد میں رہا جس کی بازگشت صدارتی ایوان میں بھی سنی گئی اور اس کے چرچے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھی زورشور سے ہوئے۔ رمیز راجہ اس تنقید کا یہ جواب دیتے رہے کہ وہ اعزازی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ میں کام کررہے ہیں جبکہ کمنٹری ان کا ذریعۂ معاش ہے۔ پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام کو ادارتی کے بجائے علاقائی بنیادوں پر استوار کرنے کے منصوبے پر بھی رمیز راجہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ جب تک وہ خود الائیڈ بینک سے کھیلتے رہے انہیں ریجنل کرکٹ کیوں یاد نہیں آئی؟ پاکستان کی سب سے بڑی کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن رمیز راجہ کو کرکٹ بورڈ اور ایسوسی ایشن کے تنازعے میں سب سے اہم کردار کے طور پر دیکھتی رہی ہے۔ کچھ حلقے رمیز راجہ پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خطیررقم کے عوض غیرملکی کوچز اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں جبکہ ان ماہرین کے لئے چند ہفتے پاکستانی کرکٹرز کو سکھانے کے لئے ناکافی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے شہریارخان اور رمیز راجہ کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے یہ بتاچکے تھے کہ اس سرد جنگ میں کسی ایک کو جانا ہی پڑے گا۔ رمیز راجہ کے قریبی ذرائع ہمیشہ سے ان کے بارے میں پرامید دکھائی دیئے لیکن رمیز راجہ کا یہ استعفے جو ان کی کمنٹری کی بے پناہ مصروفیات کا سبب لیے سامنے آیا ہے شہریارخان کی جیت ظاہر کرتا ہے جو آہستہ آہستہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنے ہم خیال ساتھیوں کی ٹیم تیار کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کا ثبوت ایڈوائزری کونسل کی تشکیل اور دیگر عہدوں پر ہونے والی اہم نوعیت کی تبدیلیاں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||