BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 May, 2005, 20:18 GMT 01:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویسٹ انڈیز جیت گیا

شاہد آفریدی
شاہد آفریدی نے 75 گیندوں پرنو چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے سنچری مکمل کی
باربیڈوس میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی پوری ٹیم 296 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح پاکستان پہلا ٹیسٹ میچ 276 رنز سے ہار گیا۔

مین آف دی میچ کا اعزاز کپتان چندرپال کو دونوں اننگز میں ان کی شاندار بیٹنگ پر دیا گیا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 92 رنز اور دوسری اننگز میں 153 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے پاکستان کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اور اس طرح ویسٹ انڈیز نے سن 2000 کے بعد سے اس گراؤنڈ پر چار شکستوں کے بعد پہلی کامیابی حاصل کی۔

ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز میں 345 رنز اور دوسری اننگز 371 رنز بنائے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 144 رنز اور دوسری اننگز میں 296 رنز بنائے۔

پاکستان کے کوچ باب وولمر نے میچ ہارنے کے بعد کہا کہ ’یہ بہت مایوس کن پرفارمنس تھی ۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف باربیڈوس میں اچھا پرفارم نہیں کر سکی اور یہ بہت مایوس کن ہے‘۔

شاہد آفریدی کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک شاندار اننگز تھی۔ ’اس سیشن میں ہم نے 160 رنز بنائے۔ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ وہ آؤٹ ہو گئے اگر وہ چائے کہ وقفے تک کھیلتے تو شاید ہم جیتنے کی پوزیشن میں ہوتے‘۔

ویسٹ انڈیز کے کوچ بینٹ کنگ کا بھی کہنا ہے کہ اگر شاہد آفریدی اس طرح ہی سکور کرتے رہتے اور دوسرے اینڈ پر انہیں کوئی مدد ملتی تو میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

پہلی اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ بری طرح فلاپ ہوئی اور صرف یونس خان ہی تھے جو سب سے زیادہ سکور یعنی 31 رنز بنا سکے۔ دوسری اننگز میں بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے اور پاکستان کا صفر پر پہلا، ایک کے سکور پر دوسرا، سولہ کے سکور پر تیسرا اور سینتالیس کے سکور پر چوتھا وکٹ گر چکا تھا۔

تیسرے دن کے اختتام پر شاہد آفریدی 32 رنز پر کھیل رہے تھے جبکہ ان کے ساتھ عاصم کمال نے 38 رنز بنائے تھے۔

چوتھے روز آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی عاصم کمال تھے جو اپنی ففٹی بنانے کے پانچ سکور کے بعد ہی کرس گیل کی ہی گیند پر ڈیون سمتھ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے اپنی اننگز میں آٹھ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔

چوتھے روز کی خاص بات شاہد آفریدی کی سنچری تھی۔ انہوں نے نو چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے 122 رنز بنائے اور پھر پاول کی گیند پر ایک اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے چندرپال کے ہاتھوں کیچ آؤٹ گئے۔ وہ آؤٹ ہونے والے چھٹے کھلاڑی تھے۔

واضح رہے کہ یہ شاہد آفریدی کی تیسری ٹیسٹ سنچری ہے۔ انہوں نے اس میچ میں ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ اس سے قبل وہ سترہ ٹیسٹ میچوں میں دوسنچریاں اور چھ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔

پاکستان کی آخری امید عبدالرزاق تھے جن میں وکٹ پر کھڑا رہنے کی صلاحیت تھی اور انہوں نے کامران اکمل کے ساتھ بھارت کے شہر موہالی میں یہ ثابت بھی کیا تھا لیکن وہ بھی پاکستان کی گرتی ہوئی بیٹنگ کو نہ بچا سکے اور 41 رنز بنا کر گیل کی گیند پر براؤن کے ہاتھوں سٹمپ آؤٹ ہوئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور 277 رنز تھا۔ ان کے بعد رانا نوید آئے جو گیل کی ہی گیند پر لارا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے چھ رنز بنائے۔ جب سکور 295 رنز پر پہنچا تو اس وقت گیل نے کامران اکمل کو بھی بولڈ کر دیا۔ اور اس کے فوراً بعد کنیریا بھی آؤٹ ہو گئے۔

چوتھے دن لنچ کے وقفے تک پاکستان نے 274 رنز بنائے ہیں اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے ہیں۔

سنیچر کے روز ویسٹ انڈیز کی ٹیم 371 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ اور اس طرح پاکستان کو میچ برابر کرنے کے لیے 572 رنز اور جیتنے کے لیے 573 رنز کا ٹارگٹ دیا تھا۔

اتوار کو جب کھیل شروع ہوا تو دوسرا اوور ہی کرس گیل کو دے دیا گیا جن کی پہلی ہی گیند پر شاہد آفریدی نے ایک اونچا شاٹ کھیلا اور ڈیون سمتھ نے باؤنڈری لائن پر ایک آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔

آفریدی نے اپنی ففٹی کولیمور کو ایک لمبا چھکا مار کر بنائی اور سنچری بھی ایک بڑی ہٹ لگا کر بنائی جو کچھ فاصلے سے چھکا ہوتے ہوتے رہ گئی۔ انہوں نے اپنی سنچری 78 گیندوں پر نو چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے بنائی۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے دوسری اننگز میں کرس گیل سب سے کامیاب بولر رہے انہوں نے 91 رنز دے کر پانچ وکٹ لیے۔

پاکستان کی ٹیم: یاسر حمید، سلمان بٹ، شاہد آفریدی، بازید خان، یونس خان، عبدالرزاق، کامران اکمل، عاصم کمال، دانش کنیریا، رانا نوید، شبیر احمد اور شاہد نذیر بارہویں کھلاڑی ہیں۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم: کرسٹوفر گیل، ڈیون سمتھ، رام ناریش ساروان، برائن لارا، شیو نارائن، چندرپال، ویول ہائنڈز، کورٹنی براؤن، ڈیرن پاول، فیڈل ایڈورڈز، ریون کنگ، کوری کولیمور شامل ہیں جبکہ آئین بریڈشا بارہویں کھلاڑی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد