ویسٹ انڈیز:345 پر آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے باربیڈوس کے شہر برج ٹاؤن کے کینسنگٹن اوول سٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 345 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی ہے۔ پاکستان کو پہلی اننگز کھیلنے کے لیے صرف چار اوور ملے اور شاہد آفریدی اور سلمان بٹ اوپن کرنے آئے۔ دن کے اختتام تک شاہد آفریدی نے ایک چھکے کی مدد سے بارہ رنز بنائے تھے جبکہ سلمان بٹ نے پانچ رنز بنائے تھے۔ پاکستان کا مجموعی سکور بائیس رن تھا۔ میچ کی خاص بات برائن لارا کی شاندار اننگز تھی۔ پہلے تین ایک روزہ میچ نا کھیلنے کے باوجود لارا آئے اور چھا گئے۔ انہوں نے 120 گیندوں پر سولہ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 130 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنی 29 ویں ٹیسٹ سنچری ایک شاندار چھکا لگا کر مکمل کی۔ ان کو دانش کنیریا نے بولڈ کیا۔ لارا کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے کپتان چندرپال نے انتہائی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ وہ 92 رنز بنانے کے بعد دانشن کنیریا کی گیند پر ایک آسان کیچ دے کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کا کیچ بازید خان نے لیا۔ ویسٹ انڈیز کے ٹیل اینڈرز ٹیم کے سکور میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے اور یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے رہے۔ پاکستان نے میچ کے شروع میں ہی ویسٹ انڈیز کے تین کھلاڑی آؤٹ کر کے میزبان ٹیم پر دباؤ ڈالا تھا، برائن لارا اور چندر پال اس کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 169 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔ پاکستان کی طرف سے شبیر احمد، عبدالرزاق اور دانش کنیریا نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جبکہ ایک کھلاڑی ویول ہائنڈز 28 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کی طرف سے یوسف یوحنا یہ میچ نہیں کھیل رہے۔ وہ اپنے والد کے علیل ہونے کے باعث واپس پاکستان چلے گئے ہیں۔ کیونکہ انضمام الحق اور شعیب ملک بھی پابندی کے باعث یہ میچ نہیں کھیل سکتے اس لیے ان کی جگہ بازید خان اور یاسر حمید کھیل رہے ہیں۔ لاارا کینسنگٹن اوول میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ویسٹ انڈین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے پہلے آوٹ ہونے والے کھلاڑی کرس گیل تھے جو چار رنز بنا کر شبیر احمد کی ایک گیند پر عبدالرزاق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور بارہ تھا۔ اور جب سکور پچیس پر پہنچا تو دوسرے نبمر پر آنے والے بیٹسمین ساروان بھی شبیر کی گیند کی ایک گیند کو کھیلنے کی کوشش میں سلپ میں بازید خان کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔
یاد رہے کہ بازید خان پاکستان کے پہلے اور دنیائے کرکٹ کے دوسرے کھلاڑی ہیں جن کے خاندان کو تین نسلوں سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں تیس ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں باپ اور بیٹے نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی لیکن اس سے پہلے ایسی مثال صرف ایک ہے جس میں تین نسلوں نے ملک کی نمائندگی کی ہو۔ باربیڈوس کی ہی رہنے والی ہیڈلی فیملی نے تین نسلوں تک ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کی تھی۔ پاکستان کو تیسری کامیابی 45 کے سکور پر ملی جب بولنگ میں تبدیلی کر کے رانا نوید کی جگہ عبدالرزاق کو لایا گیا۔ انہوں نے 19 رنز پر سمتھ کو آؤٹ کر دیا۔ سمتھ کا کیچ یاسر حمید نے لیا۔ روایتی طور پر برج ٹاؤن کے کینسنگٹن اوول سٹیڈیم کی وکٹ تیز کھیلتی اور تیز بولروں کی مدد کرتی ہے لیکن اب ماہرین کے مطابق سپنر بھی اس پر اچھی گیند کر سکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس تاریخی سٹیڈیم میں یہ آخری میچ کھیلا جا رہا ہے اور اس کے بعد اسے گرا کر ورلڈ کپ کے لیے نیا سٹیڈیم بنایا جائے گا۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آج تک کل 39 ٹیسٹ میچ ہوئے ہیں جن میں سے پاکستان نے بارہ جیتے ہیں، ویسٹ انڈیز نے تیرہ جبکہ چودہ ڈرا ہوئے۔ آج تک پاکستان نے ویسٹ انڈیز آ کر ویسٹ انڈیز سے کوئی بھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی ہے۔ کینسنگٹن اوول کی وکٹ پر اب تک ویسٹ انڈیز نے 41 ٹیسٹ میچ کھیلیں ہیں جن میں سے 20 جیتے، 5 ہارے اور 15 ڈرا ہوئے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم: یاسر حمید، سلمان بٹ، شاہد آفریدی، بازید خان، یونس خان، عبدالرزاق، کامران اکمل، عاصم کمال، دانش کنیریا، رانا نوید، شبیر احمد اور شاہد نذیر بارہویں کھلاڑی ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم: کرسٹوفر گیل، ڈیون سمتھ، رام ناریش ساروان، برائن لارا، شیو نارائن، چندرپال، ویول ہائنڈز، کورٹنی براؤن، ڈیرن پاول، فیڈل ایڈورڈز، ریون کنگ، کوری کولیمور شامل ہیں جبکہ آئین بریڈشا بارہویں کھلاڑی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||