پہلے دورہ ویسٹ انڈیز کی یادیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جب انیس سو ستاون، اٹھاون میں ویسٹ انڈیز کاپہلا دورہ کیا تو پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں یہ صرف تیسرا غیرملکی دورہ تھا۔ ویسٹ انڈیز کے پہلے دورے میں پاکستان کوپانچ میچوں کی سیریز میں پہلا ٹیسٹ برابر کرنے کے بعد لگاتار تین میچوں میں شکست ہوئی۔ لیکن پھر بھی پاکستان نے ہمت نہیں ہاری اور پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں ٹرینیڈیڈ کے پورٹ آف اسپین گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور ایک رن سے ہرا کر پاکستان نے یہ بات منوالی کہ وہ ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کوہرا سکتا ہے۔ اس جیت میں پوری ٹیم کی پرفارمنس اپنی جگہ لیکن وزیر محمد، فضل محمود اور نسیم الغنی کی پرفارمنس قابلِ ستائش تھی۔ وزیر محمد اب پچھتر سال کے ہیں اور برمنگھم میں رہتے ہیں اس میچ کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتےہیں ’ فضل محمود اس کھیل کے بنیادی بولر تھے مگر نسیم الخنی اور حسیب بالکل نوجوان تھے۔ مگر ان کی بولنگ پر بہت پریشر تھا‘۔ ویسٹ انڈیز ٹاس جیت کر صرف دوسو ارسٹھ رنز میں آوٹ ہوگئی جس میں چھیاسی رن کولی اسمتھ کے اور اکیاون رنز ایویٹن ویکس کے۔ فضل محمود کے لیگ کٹر کے سامنے کوئی بھی ویسٹ انڈیز کا بیٹسمین جم کر نہیں کھیل سکا تھا۔
حنیف محمد کے بڑے بھائی وزیر نے تیسرے ٹیسٹ میں ایک سو چھ رنز اور چوتھے ٹیسٹ میں ستانوے رنز بنائے تھے اور آؤٹ نہیں ہوئے اور بہت اچھی فارم میں تھے۔ اپنی بیٹنگ کویاد کرتے ہوئے وزیر محمد نے کہا ’ بیٹنگ آرڈر فائنل ہورہاتھا کہ نمبر چار پر کون جائےگا تو میں نے ڈریسنگ روم میں کہا کہ مجھے بھی آگے بھیجو میں ان کا بال پھاڑ دوں گا۔ میں نے کہا کہ مجھے نمبر چار اور حنیف کو پانچ نمبر پر بھیجیں۔مجھے یہ بات بار بار یاد آرہی ہےکہ میں جس بیٹ سے کھیل رہاتھا وہ گنن مور کا تھا اور میں اس بیٹ سےصحیح کھیل نہیں پا رہاتھا۔ پھر میں نے کہا کہ سورس رچ کے بیٹ سے کھیلتے ہیں۔ ان کا بیٹ ہیوی تھا۔اس سے میں اتنا اچھا کھیلا‘۔ ویسٹ انڈیز کو دوسو اٹھائیس رنز کی برتری بہت ہی بھاری پڑی اور اس دباؤ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم دوسری اننگز میں دو سو ستائیس رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔ سترہ سالہ نسیم الغنی نے چھ وکٹیں سرسٹھ رنز دے کر لیں اورویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کا جلوس نکال دیا۔ اور اس طرح پاکستان کو ویسٹ انڈیز میں اپنے پہلے دورے میں ایک اننگ اور ایک رن سے فتح حاصل ہوئی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کی یہ پہلی فتح تھی۔
وزیر محمد کہتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلرگِلکرس اور ان کے ساتھی اتنی خوفناک فاسٹ باؤلنگ کرتے تھے کہ ہم ان کی آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملا سکتے تھے اور ایک دوسرے کو یہ کہتے تھے کہ فاسٹ باؤلر کی آنکھوں میں نہ گھورو ورنہ یہ دوسرا باؤنسربھی مار دے گا۔ ’گِلکرس جب باؤنسر مارتا تھا تواس کا ایک انداز تھا اور وہ یوں آ کر آپ کی آنکھوں میں گھورتا تھا۔ جب وہ میری طرف دیکھتاتھاتو میں ادھر سلپ کی طرف دیکھتا تھا۔تو میں یہ کہوں کہ چلو بیٹا تیار ہوجاؤ اب دوسرا بال آرہا ہے۔ اگر آپ ڈرے، پیچھے ہٹے اور بھاگے تو آپ سو فیصد باؤنسر کا شکار ہو جاتے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||