BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 March, 2005, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام کی ٹیم کاغذ پر کمزور ہے

انضمام کی ٹیم کاغذ پر کمزور نظر آتی ہے
انضمام کی ٹیم کاغذ پر کمزور نظر آتی ہے
لہجہ یکایک تبدیل ہوتا ہے۔ ’ یہ بنگلور تھا ناں - بنگلور میں تو پاکستان ہمیشہ جیتا ہے۔ 1987 یاد نہیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان کیا کھیلا تھا -- سیریز جیتی تھی ہم نے‘۔

1987 میں بنگلور ٹیسٹ میں فتح کے مقابلے میں انضمام الحق کی ٹیم کی فتح یقیناً زیادہ مزیدار ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ایک نئی کامیابی ہے۔ مگر خالصتاً کرکٹنگ نقطہ نظر سے بھی یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ 18 برس پہلے کے مقابلے میں یہ نئی مزیدار کامیابی زیادہ قابل تحسین ہے۔

18 برس پہلے کی پاکستانی ٹیم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی اور یہ بات بار بار کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان وہ میچ عبدالقادر باہر بٹھانے کے باوجود جیتا۔ اس کے برعکس موجودہ پاکستانی ٹیم کاغذ پر خاصی کمزور نظر آتی ہے۔ دوسری جانب بھارتی ٹیم مستند کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جس نے پچھلے برس ہی پاکستان کو پاکستان میں 2-1 سےہرایا تھا۔

دانش کنیریا آج ہمارے بہترین بولر ہیں اور عبدالرزاق جیسے شریفانہ بولر کو محمد سمیع جیسے محنتی مگر رنز دینے کے مقابلے میں کسی قدر فراخ دل گیند باز کے ساتھ اننگز کے آغاز میں بولنگ کرنی پڑتی ہے۔

ٹیم میں اور بھی کئی مسئلے ہیں۔ مثال کے طور پر اوپنر کی پوزیشن کے لیے جیسے کہتے ہیں باریاں لگی ہوئی ہیں۔ دو میچ میں توفیق عمر اوپن کرتے ہیں ایک میچ میں سلمان بٹ اور ایک میچ میں یاسر حمید۔

تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان پھر بھی فتحیاب ہوا۔ اور ناقابل یقین طریقہ سے سیریز برابر کر گیا۔

سیریز کا ایک مستقل فیکٹر انضمام الحق کی شاندار بیٹنگ ہے۔ دوسری اہم بات شاید وریندر سہواگ اور ڈراوڈ کی گولہ باری ہے، جس نے دوسرے بھارتی بلے بازوں پر دباؤ کم تو کیا مگر ایک فیصلہ کن لمحے پر آکر ڈراوڈ اور سہواگ آؤٹ ہو نے سے بھارتی مڈل آرڈر شدید پریشر کا شکار ہو گیا۔

اس بار اپنی پرانی روایت کے برعکس پاکستان چھٹی والے روز یعنی اتوار کو بھی اچھا کھیلا۔ ناصرف یہ کہ ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے بھارت کے باقی بچنے والی چار وکٹ جلدی گرا دیے اس کے بعد تیزی سے رن بنائے، پاکستانی بلے بازوں نے اپنی باولنگ کو اتنے رن اور اتنا وقت فراہم کر دیا کہ بھارتی جیسی مضبوط بیٹنگ لائن کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موہالی کے شاندار کھیل اور کولکتہ ٹیسٹ کے آخری روز کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود پاکستان میں کرکٹ شائقین 1-0 کی ہار کیساتھ پاکستانی ٹیم کو قبول کر لیتے۔ مگر جیت کا مزہ ہی کچھ اور ہے اور پھر جیت بھی بھارت کی سرزمین پر۔

سیریز کے آغاز پر یہ کہا جا رہا تھا کہ دوستانہ ماحول میں بھارت کے ساتھ پنجہ آزمائی پاکستانی ٹیم کے گوریلوں کے حق میں نہیں ہے۔ آخری ٹیسٹ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ بھارت میں موجودہ پاکستانی گھس بیٹھیوں میں دو چار لوگ ایسے ہیں جو جارحانہ عزائم رکھتے ہیں اور بھارت میں اپنا نام روشن کرنا چاہتے ہیں۔ مذاقاً یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کی سرزمین ’خانوں‘ کے لیے بہت ذرخیز ہے۔ بنگلور میں ان کی بیمثال کارکردگی کا باعث بنی۔ آفریدی پر بھی ان کے رویہ کے حوالے سے کافی تندو تیز جملے پھینکے جاتے رہے ہیں۔ پاکستانی شائقین یہ امید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنگلور کے بعد کی تعریف ٹیم کی مجموعی کارکردگی کی متاثرہ نہیں کریگی اور ٹیم ایک روز میچوں میں بھی بھارتی کھلاڑیوں پر دباؤ قائم رکھہ گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد