کولکتہ میں بیٹنگ اور موہالی کا نشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو کولکتہ ٹیسٹ میں دوسرے دن کا کھیل اختتام پذیر ہوا مگر موہالی کا نشہ ابھی تک وہی ہے۔ وہی ٹیم جو بھارت کے لیے تر نوالہ قرار دی جا رہی تھی اچانک ایک خطرناک مدِ مقابل کے طور پر اپنے ہم وطنوں سے داد حاصل کر رہی ہے۔ کولکتہ ٹیسٹ سے ایک روز قبل لاہور کا ایک اردو روزنامہ غائبانہ سورو گنگولی کی چٹکی لیتا دکھائی دیتا ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ کولکتہ کی پچ سے گھاس کی صفائی گنگولی کے دل میں پاکستان کے تیز باؤلروں کے خوف کی غمازی کرتی ہے۔ کیونکہ عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس کو گئے کافی عرصہ ہوگیا ہے اور کیونکہ شعیب اختر ٹیم کے ساتھ نہیں ہیں اور محمد سمیع ٹیم کے ساتھ بس یوں ہی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ گنگولی کی گھاس کٹوائی پاکستانی ٹیم کے لیے ایک خیر سگالی کا پیغام لیے ہوئے ہے۔ اگر موہالی میں بالاجی کو کھیلنا پاکستانی بلے بازوں کے لیے اتنا مشکل تھا تو ذرا سوچیے کہ کولکتہ کی گرین وکٹ پر بالا جی کا بول کتنا بالا ہو سکتا تھا۔ سچ یہ ہے مبصرین کی زیادہ تر باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ موہالی اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ عبدالرزاق کی پھرکی کب گھومنے لگے اور کب وہ ریورس سوئنگ کرنے لگے۔ کچھ باتیں بہر حال طے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی بھی ذی ہوش کپتان اور کوچ کسی ٹیسٹ میں ساڑھے چار باؤلرز کے بغیر نہیں جا سکتا۔ موہالی میں پاکستان کے پاس بمشکل چار باؤلرز تھے۔ سمیع، رزاق، رانا نوید اور کنیریا۔ یہ ہمارے خیال میں ایک عام سا باؤلنگ اٹیک تھا جو پچ کی آسانی کو دیکھتے ہوئے مزید عام سا تھا۔ کنیریا ان میں سب سے effective باؤلر لگے اور یہ بھی وہ وجہ تھی جو کولکتہ میں بھارتی بلے بازوں کے کنیریا پر اٹیک کا محرک بنی۔ مگر خوش قسمتی سے اس مرتبہ شاید آفریدی ٹیم میں تھے۔آفریدی تین وکٹ لے گئے اور پھر عبدالرزاق کی پھرکی بھی بالاخر چل گئی۔ انہوں نے تین وکٹیں لیں۔ تین ہی وکٹیں کنیریا کے حصے میں بھی آئیں مگر وہ ایک سو تیس سے زیادہ رنز دے گئے۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ کنیریا کو ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔ تقریباً تین سو کے عوض سیریز میں نو وکٹیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ابھی کارکردگی تو ہے مگر دنیا کا بڑا گیند باز ہونے کا دعویٰ قبل از وقت ہے۔ ابھی کنیریا کو وقت لگے گا۔ صفِ اول میں شامل ہونے میں دو چار اچھی پرفارمنس ان کے حصے میں ہیں اور موجودہ سیریز یقیناً ان کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ بقول خود ان کے ’انشااللہ‘ بھگوان کی کرپا سے وہ مزید اچھا کھیل پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کنیریا کو ثابت قدمی اور عاجزی کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کی ٹیم اچھا کھیل پیش کر رہی ہے اور اب یونس خان نے بھی سنچری بنا ڈالی ہے۔ ایسے مواقع پر عام طور پر کھلاڑیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ تو ہندوستان پاکستان کا معاملہ ہے۔ یہاں تو بڑے بڑے صابر لڑکھڑا جاتے ہیں۔ کولکتہ ٹیسٹ کے دوسرے روز اور موہالی ٹیسٹ کے آخری دن میں مماثلت تو ہے مگر یہ کہناہی ہوگا کہ یونس کی سنچری ہو یا پھر یوحنا کی، کامران اکمل کے سو رنز ہوں یا رزاق کے ستر رنز، ان سب کی جدِ امجد انضمام الحق کے وہ شاندار چھیاسی رنز ہیں جو انہوں نے موہالی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں سکور کیے۔ ان کی زبردست بیٹنگ نے پاکستانی باؤلرز کا اعتماد بحال کیا۔ شاید پاکستان ٹیم کاغذ پر اب بھی ہندوستان سے کمزور نظر آتی ہے۔ مگر یقیناً مقابلہ تو ہے۔ کچھ یادیں خوشگوار اس دورے کی جمع ہوئی تو ہیں۔ نہ سٹے بازی کا ذکر ہے نہ سیاست کا کچھ زیادہ اثر ہے۔ پچھلی بار پاکستان پر الزام تھا کہ وہ واجپئی کو الیکشن جتوانے کے لیےہارے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسی باتیں آپ کو پڑھنے کے لیے ملیں گی۔ انہیں نظر انداز کیجیئے۔ کھیل دیکھیے خاصا دلچسپ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||