پاکستان و ویسٹ انڈیز: یادگار میچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمیکا کے سبائنا پارک میں ایک بار پھر پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ کھیل رہا ہے۔ اپنے انیس سو ستاون، اٹھاون کے پہلے دورے میں پاکستان نے باربیڈوس میں پہلا ٹیسٹ بچانے کے بعد پانچ میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ ٹرینڈیڈ کے پورٹ آف اسپین گراؤنڈ میں ایک سو بیس رنز سے شکست کھانے کے بعد جمیکا میں تیسرا ٹیسٹ کھیلا۔ اور یہ ایسا ہی میچ تھا جیسا کہ بار بیڈوس میں پہلا ٹیسٹ جہاں حنیف محمد نے تین سو سینتیس رنز بنا کر پاکستان کو شکست سے بچا لیا تھا۔ لیکن جمیکا میں ویسٹ انڈیز کے جواں سال گیری سوبرز نے ایک یادگار اننگز کھیل کر اپنا نام ریکارڈ بک میں شامل کر لیا۔ انھوں نے انگلینڈ کے سرلین ہٹن کے بیس سالہ بیٹنگ کے ریکارڈ کو توڑ ڈالا۔ ہٹن نے انیس سو اڑتیس میں اوول کے میدان میں تین سو چونسٹھ رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کو سات سو نوے رنز بنانے میں صرف مدد ہی نہ کی بلکہ دھواندار بیٹنگ کرتے ہوئے تین سو پینسٹھ رنز بنا کر ویسٹ انڈیز کے ہیرو بن گئے۔ بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے سوبرز کی یہ پہلی ٹیسٹ سینچری تھی اور ٹرپل سینچری بھی ۔ پاکستان کے بالر انکی اننگز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے ۔ فاسٹ باؤلر محمود حسین زخمی تھے اور اسپنسر نسیم الغنی بھی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باربیڈوس کے بیٹسمین سوبرز پاکستانی باؤلروں پر چھاگئے۔ مرحوم فضل محمد نے دو وکٹیں تو لیں لیکن دوسو سینتالیس رنز دے کر اور ساتھ میں خان محمد، سیدھے ہاتھ سے تیز گیند کرنے والے اور ان کے کپتان حفیظ کاردار۔ یہ ریکارڈ سینتیس سال تک اسوقت تک قائم رہا ہے جبتک برائن لارا نے اینٹیگا میں انگلینڈ کےخلاف تین سو پچھتر رنز بنا کر کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ سوبرز اب سرگارفیلڈ سوبرز ہیں اور ان کا شمار دنیا کے عظیم آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں بہت سے پاکستانی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ سوبرز دوبار پاکستانی باؤلروں کی گیند پر آؤٹ تھے لیکن امپائر نے انہیں آؤٹ نہیں دیا۔ اس ٹیسٹ میں امتیاز احمد اور وزیر محمد نے بھی سینچری بنائی تھی ۔ اور ویسٹ انڈیز کے اوپنر کونریڈ ہنٹ نے دوسو ساٹھ رنز بنائے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||