کرکٹ صرف بالغوں کے لیے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ نے ایڈلٹ فلمیں تو شاید دیکھی ہوں گی لیکن کیا آپ نے کبھی ایڈلٹ کرکٹ کے بارے میں بھی سنا ہے؟ میں نے یہ پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ لیکن جمیئکا میں آ کر نہ صرف سنا بلکہ دیکھا بھی۔ اور وہ بھی سبیئنا کے ساتھ۔ بھئی مجھے غلط مت لیجیئے۔ سبیئنا کسی لڑکی کا نہیں کنگسٹن کے اس سٹیڈیم کا نام ہے جس میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔ اس سیریز کے دوران سینٹ ونسنٹ، سینٹ لوشیا اور باربیڈوس جانے کا اتفاق ہوا لیکن جمیئکا کے اپنے ہی رنگ ہیں اور زیادہ رنگ رات کی تاریکی ہی میں نظر آتے ہیں۔ ذرا سبیئنا میرا مطلب اس سٹیڈیم کو ہی لیجیئے۔ پہلے دن میں نے ہوٹل سے ٹیکسی کروائی اور سٹیڈیم اترا۔ ٹیکسی والے نے ایک ہزار ڈالر مانگے۔ گھبرائے نہیں ویسٹ انڈیز کا ڈالر بالکل پاکستان کے روپے کے برابر ہے۔ اس وقت تو اتنی حیرت نہیں ہوئی لیکن واپسی پر جب ایک اور ٹیکسی والے نے دو سو ڈالر مانگے تو ایک بڑا دھچکا لگا بالکل ایسا ہی دھچکا صبح ٹیکسی سے اترنے پر بھی لگا تھا۔ ہوا یوں کہ سٹیڈیم کے باہر ایک گیٹ پر لکھا تھا ’ایڈلٹس اونلی‘ یعنی صرف بالغوں کے لیے۔ جلدی سے دل میں سوچا کہ کس سن میں پیدا ہوا تھا۔ جب یقین ہو گیا کہ اندر جا سکتا ہوں تو گیٹ کی طرف چل پڑا۔ پھر خیال آیا کہ کیوں نہ پہلے یہ تیس کلو وزنی کمپیوٹر اور اس کے ساتھ منی ڈسک، مائیک اور ریکارڈنگ کے آلات سے بھرا تھیلا میڈیا بکس میں رکھ آؤں۔ اتنے وزن کے ساتھ بالغوں والی چیز دیکھنے میں مزہ نہیں آئے گا۔ ساتھ ہی سیربین والوں کے فون کا بھی خیال آیا۔ سارا نشہ ایک دم ہوا ہو گیا اور چپ چاپ میڈیا سینٹر کی طرف چل پڑا۔ میڈیا سینٹر پہنچ کر ایک نیا انکشاف ہوا کہ یہ بالکل بالغوں والی جگہ کے بغل میں ہے۔ میچ بھی دیکھو اور ۔۔۔
ہر کوئی یہاں ایک آدھ بیئر سے بھرا گلاس بھی پکڑے ہوئے ہے اور فضا کا یہ حال ہے کہ میڈیا بکس میں بھی تقریباً ہر کوئی زیادہ نہیں تو تین سے پانچ فیصد الکوہل بھرا سانس ضرور لے رہا ہے۔ شاید اتنی گرمی میں میچ انجوائے کرنے کا یہی بہتر طریقہ ہے۔ میچ کے بعد ہوٹل پہنچا، نہا دھو کر دل چاہا کہ کیوں نہ ہوٹل سے باہر جا کر کھانا کھایا جائے۔ رات کے ابھی نو ہی بجے تھے اور ہوٹل بھی شہر کے محفوظ علاقے میں ایک پولیس سٹیشن کے بالکل ساتھ تھا۔ اب ذار سنیئے کہ ہوٹل کے باہر کیا ہوا۔ پہلے تو چھوٹے چھوٹے نہ ہونے کے برابر کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں نے پیٹ کی بھوک کے علاوہ کوئی اور بھوک مٹانے پر اصرار کیا۔ دماغ اور دل یک زبان بولے سیدھے چلتے رہو۔ پھر ایک شخص ہاتھ میں وزیٹنگ کارڈ بک جیسی کتاب پکڑے آ گیا اور ضد کی کہ میں کتاب پڑھوں۔ کتاب میں کئی تصویریں تھی۔ جلدی سے اس شخص سے بھی جان چھڑائی۔ فاسٹ فوڈ کا جو بھی ریسٹورنٹ قریب آیا فوراً اس میں گھس گیا۔ واپسی بھی کچھ اس طرح ہی تھی۔ ہاتھ میں تین چار کارڈ لیے اپنے کمرے میں گھس کر سکھ کا سانس لیا۔ ایک لمحے کے لیے سوچا کہ شاید ماں باپ نے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ میں میری عمر پچیس تیس سال بڑی لکھوا دی تھی۔ جمیئکا شاید بالغوں کے لیے ہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||