پاکستانی ہار:88 باربیڈوس تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین ایک روزہ میچوں کی سیریز جیتنے کے بعد اس وقت پاکستان کی ٹیم باربیڈوس کے کینگٹن اوول میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیل چکی ہے۔ پاکستان کا یہ ویسٹ انڈیز میں چھٹا دورہ ہے اور جب بھی پاکستان یہاں کھیلتا ہے تو دو اہم واقعات ہمیشہ یاد آتے ہیں۔ ایک تو انیس سو ستاون، اٹھاون کے ٹیسٹ میں حنیف محمد کی ٹرپل سینچری اور انیس سو اٹھاسی میں باربیڈوس کے ایمپائر ڈیوڈ آرچ کے غلط فیصلے پر عبدالقادر کا مکہ۔ ایمپائر پر نہیں بلکہ ایک تماشائی پر جسکی قیمت قادر کو ایک ہزار ڈالر کی شکل میں ادا کرنی پڑی۔ انیس سو اٹھاسی کی اس سیریز سے پہلے انیس سو ستتر میں مشتاق محمد کی قیادت میں بھی پا کستان میچ جیتتے جیتتے رہ گیا جبکہ ویسٹ انڈیز کے آخری دو کھلاڑیوں نے ایک گھنٹے اور پینتیس منٹ بیٹنگ کر کے میچ بچا لیا تھا۔ انیس سو اٹھاسی کے دورے میں پانچ ایک روزہ میچ ہارنے کے بعد پاکستان نے جاوید میاں داد نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں سینچری بنائی تھی۔ باربیڈوس میں کھیلے جانے والے آخری ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو شکست کا سامنا تھا اور سیریز تقریبا پاکستان کے گرفت میں تھی۔ کھیل کے آخری دن جب میلکم مارشل کو وسیم اکرم نے آوٹ کر دیا تو فتح یقینی تھی۔ ویسٹ انڈیز کو انسٹھ رنزجیتنے کے لیے درکار تھے اور پاکستان کو سیریز جیتنے کےلیےصرف دو وکٹیں۔ لیگ سپینسر عبدالقادر کی گیند پر ٹیف ڈیوجون کا جب مدثر نظر نے کیچ لیا تو ایمپائر ڈیوڈ آرچ نے جن کا تعلق بارپیڈوس سے تھا، ا پیل رد کر دی اور اس کے عمران خان اور پوری ٹیم اپیل کرتی رہی لیکن ایمپائر آرچ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ قادر نے اپنی جنونی کیفیت اور غصے کے عالم میں پریس باکس کے قریب فیلڈ کرتے ہوئے ایک تماشائی کی گالیوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے اچانک باؤنڈری سے باہر آ کر اسے مکا رسید کیا۔ تماشائی رابرٹ اوگیسٹی کرسی سے میچ تو ویسٹ انڈیز نے جیت لیا لیکن قادر اور پاکستان کے مینیجر انتخاب عالم کو اس مکے کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالر ادا کرنی پڑی۔ کیوں کہ بعد میں باربیڈوس کے لوگوں کا کہنا تھا کے ایمپائر ڈیویڈ آرچ نےاس ڈر سے ویسٹ انڈیز کے بیٹسمینوں کو آؤٹ نہیں ہونے دیا۔ کیونکہ انہیں خطرہ تھا کے مشتعل تماشائی کہیں انکے گراؤنڈ سے باہر بار اور کیفے کو آگ نہ لگا دیں۔ ویسٹ انڈیز کی شکست انہیں منظور نہ تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||