کیا آپ کو معلوم ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے معروف وکٹ کیپر وسیم باری باربیڈوس میں سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوبتے ڈوبتے بچے تھے۔ اگر نہیں معلوم تو سنیئے وسیم باری باربیڈوس کے شہر برج ٹاؤن میں سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب رہے تھے کہ ڈیوٹی پر موجود لائف گارڈ نے انہیں دیکھ لیا اور یوں باری زندہ بچ گئے۔ یہ انیس سو ستتر کی بات ہے جب پاکستان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کینسنگٹن اوول کے گراؤنڈ میں کھیلنے والا تھا۔ وسیم باری میچ سے ایک دن پہلے ڈوبنے سے بچے اور اگلے ہی دن انہوں نے پاکستان ٹیم کو ڈوبنے سے بچا لیا۔ پاکستان کے ایک سو اٹھاون پر نو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے کہ وسیم باری آئے۔ اس وقت کریز پر ان کے ساتھ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے وسیم راجہ موجود تھے۔ نو وکٹ کے نقصان پر پاکستان کو بڑے سکور کی کوئی امید نہیں رہی تھی اور بالکل ایک لائف گارڈ کی طرح وسیم باری آئے اور پاکستان کو بچا گئے۔ اس دن دونوں وسیموں نے مل کر پاکستان کا آخری وکٹ کا سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بنا ڈالا۔ یہ ریکارڈ پارٹنرشپ ایک سو تینتیس رنز کی تھی۔ ویسم راجہ اکہتر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور وسیم باری ساٹھ رنز بنانے کے بعد ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ ٹیسٹ میچ کسی بھی ہار جیت کے بغیر ختم ہوا۔ اس ٹیسٹ سیریز میں ویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ تھے جبکہ پاکستان کی کپتانی مشتاق محمد کر رہے تھے۔ پانچ ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں دو میچ ویسٹ انڈیز جیتا، ایک پاکستان جبکہ دو برابر رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||